Express News:
2026-06-02@22:57:00 GMT

کیا اچھی حکمرانی کا خواب ممکن ہوسکے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

پاکستان میں حکمرانی کے نظام کا مجموعی مسئلہ شفافیت ہے جو بنیادی طور پر معاشرے میں موجود کمزور طبقات کے لیے نئے مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔آئی ایم ایف،ورلڈ بینک،ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت ترقی یا دیگر ادارے بار بار اس امر کی نشاندہی کررہے ہیں کہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی طور پر آگے بڑھنے کے لیے اپنے گورننس کے نظام میں اہم اقدامات یا بڑی تبدیلیاں لانی ہونگی۔

ان کے بقول اگر پاکستان نے گورننس سے جڑے معاملات پر جلد زیادہ سنجیدگی سے کام نہ کیا یا ان میں کوئی بڑی اصلاحات اور عملدرآمد کے نظام کو ممکن نہیں بنایا تو وہ بہت سی اچھی پالیسیوں کے باوجود ترقی کے اہداف کو حاصل نہیں کرسکے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ترقی تو جدید بنیادوں پر کرنا چاہتے ہیں لیکن حکمران طبقات کا کردار فرسودہ روایات اور فکر کے ساتھ ہی جڑا ہوا ہے جہاں ہم ہر فرد کی ترقی کے مقابلے میں طبقاتی بنیادوں پر ترقی کے ماڈل کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں اور ترقی کے مجموعی دائرہ کار کو اپنے فائدہ تک محدود کر رہے ہیں۔

اس وقت بلاوجہ ہمارے جیسے ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر اچھی حکمرانی کی بحث موجود ہے جہاں ہر جماعت کی حکومت خود کو بہتر ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے اور سیاسی مخالفین کی حکومت کو بدترین حکمرانی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ اس وقت وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی، سندھ اور بلوچستان میں پیپلزپارٹی جب کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔ اس لیے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ۔کچھ غیر سرکاری ادارے چاروں صوبائی حکومتوں کے درمیان سروے بھی پیش کرتے ہیں کہ کہاں اچھی حکومت ہے۔

18ویں ترمیم کے بعد گورننس کی بہتری کی ایک بڑی ذمے داری وفاقی حکومت کے مقابلے میں صوبائی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے اور ان ہی کو اچھی حکمرانی کے تناظر میں جوابدہ سمجھا جاتا ہے ۔لیکن بدقسمتی سے 18ویں ترمیم کے بعد بھی ہماری صوبائی حکومتوں کا گورننس کا ماڈل لوگوں میں اپنی اچھی ساکھ قائم نہیں کرسکا۔یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ ملک کی مجموعی حکمرانی کے نظام سے نالاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ نظام ان کے مسائل کے حل میں ناکامی سے دوچار ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی دنیا میں پاکستان یاان کے صوبے ترقی میں پیرس اور دیگر یورپی ممالک کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔

 ہمارا گورننس کا ماڈل خیراتی ماڈل کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں ہم لوگوں کو خود انحصار کرنے کی بجائے ان کو حکومتوں ہی پر منحصر اور محدود رکھنا چاہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں کی سیاسی اور معاشی حیثیت کو تبدیل کرنا ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ۔اس کھیل کی بنیاد پر حکمران اپنی ذاتی تشہیر کے لیے اربوں روپوں کے اشتہارات جاری کرتے ہیں جو قومی خزانے پر بوجھ بنتے ہیں۔اس نظام کی خرابی یہ ہے یہ اداروں کی بالادستی کی بجائے افراد یا خاندان کی بالادستی کو فوقیت دی جاتی ہے جو آگے جاکر اداروں کی کمزوری کا سبب بھی بنتا ہے۔اسی طرح 18ویں ترمیم کے باوجود ہم آج بھی نچلی سطح کے نظام کو بے اختیار کرنا ہوتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے ایک مضبوط اور خود مختار مقامی حکومت کا نظام ہمیشہ سے ہماری سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں رہا ہے اور اس عمل نے گورننس کے نظام کی خرابیوں میں بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔

 اچھی حکمرانی کا نظام نہ صرف اداروں کو مستحکم بناتا ہے بلکہ لوگوں کی سطح پر اعتماد بحال کرتا ہے اور لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ ہمارے مسائل کا حل اسی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہی عمل شہریوں میں حکمرانوں پر اعتماد کو بھی بحال کرتا ہے جو سیاسی اور جمہوری نظام کو بھی مضبوط بنانے میں اہمیت رکھتا ہے ۔اچھی گورننس معاشرے میں موجود عدم انصاف اور عدم مساوات کے نظام کو ختم کرکے سب میں برابری کی سیاست کو اہم بناتی ہے۔

ہر شہری کا حق ہے کہ اس کے پاس معلومات تک رسائی ہو اور وہ حکمرانوں کو جوابدہی کے طور پر دیکھ سکے یا وہ ان سے سوالات کرسکے ۔پاکستان جیسے ملک میں اول جہاں کرپشن اور بدعنوانی کی سیاست عام ہے، اعتراف کیا جارہا ہے کہ ہمارے سرکاری اداروں میں سالانہ بنیادوں پر اربوں روپے کرپشن،بددیانتی یا بے ضابطگی ہے ۔سب سے بڑھ کر پاکستان کے گورننس کے مسائل کی بنیادی خرابی انسانی وسائل پر کم توجہ اور کم بجٹ رکھنا ہے اور اسی بنیاد پر ہمارے قومی اعداد وشمار میں سماجی ترقی اور کمزور طبقات کی ترقی میں بہت زیادہ فرق دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہماری ترقی کی توجہ کا مرکز انتظامی ڈھانچوں اور چند بڑے مخصوص شہروں کی ترقی تک محدود ہے جو لوگوں میں محرومی کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے ۔

یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ اگر ملک میں گورننس کا نظام عدم شفافیت کی بنیاد پر قائم رہے گا تو اس کا براہ راست اثر ملک کی سیاست ،جمہوریت یا معیشت کی کمزوری کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی ترقی میں سب سے زیادہ توجہ اپنے گورننس کے نظام کی بہتری کی طرف ہے ۔ ہمیں گورننس کے نظام کی بہتری کے حوالے سے چند بنیادی نوعیت کے فکری مغالطوں سے بھی باہر نکلنا ہوگا۔اگر واقعی ہم نے گورننس کے نظام میں بہتری پیدا کرنی ہے یا اس میں بہتری کے نتائج دیکھنے ہیں تو ہمارے پاس واحد کنجی اصلاحات پر مبنی نظام ہوتا ہے ۔

اس لیے اگر ہم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر گورننس کے نظام کی بنیاد پر کارکردگی کو جانچنا ہے تو پھر یہ دیکھنا ہوگا کہ کس کی حکومت اور کس جماعت نے پولیس ،عدلیہ اور انصاف،ادارہ جاتی یا بیوروکریسی،انتظامی،سیاسی، معاشی ،سیکیورٹی اور کمزور طبقات کی بہتری میں سخت گیر اصلاحات اور ان کا مکمل عملدرآمد کا جامع نظام اور فریم ورک تشکیل دیا ہے تو ہمیں جواب نفی میں ہی ملے گا۔جس فرسودہ انداز سے نظام کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے اس نظام کے بارے میں اور زیادہ مایوسی پیدا ہورہی ہے اور موجودہ گورننس کا نظام پہلے سے موجود طبقاتی تقسیم اور خلیج کو اور زیادہ گہرا کررہا ہے ۔یہ ہی عمل حکومت اور شہریوں کے درمیان باہمی اعتماد کو بھی کمزور کرتا ہے ۔اس لیے حکمرانوں کی جذباتیت یا اشتہارات پر مبنی حکمرانی کا نظام لوگوںمیں ان کی بہتر ساکھ کو قائم نہیں کرسکے گا۔ہمیں جدید حکمرانی کے ماڈل درکار ہیں اور اسی بنیاد پر ایک بڑے قومی فریم ورک کی مدد سے سخت گیر اصلاحاتی ماڈل کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا اس وقت ہماری سیاسی مجبوری ہے۔لیکن کیا حکمران اس کے لیے تیار ہیں اس پر غور کرنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے گورننس کے نظام گورننس کے نظام کی صوبائی حکومتوں اچھی حکمرانی یہ ہی وجہ ہے حکمرانی کے گورننس کا کی سیاست بنیاد پر کی حکومت کی بنیاد کی بہتری کا نظام کرتا ہے نظام کو ترقی کے کی ترقی کے لیے ہیں کہ ہے اور

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی