بھارتی اقلیتیں ہر طرح کے شکنجے میں
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ تین ماہ سے مساجد کی پروفائلنگ ہو رہی ہے۔ اس پروفائلنگ سے مندر ، چرچ اور گوردوارہ فی الحال مستثنٰی ہیں۔مساجد کی انتظامی کمیٹی سے لے کر امام ، موزن اور خادم تک سب کو ایک چار صفحاتی پروفارما بھرنا پڑتا ہے۔
اس فارم میں جو تفصیلات مانگی گئی ہیں ان میں مسجد کا نام ، فقہ یا فرقے کا نام ، تعمیر کی تاریخ ، آمدنی و ماہانہ اخراجات کا ذریعہ ، نمازیوں کی گنجائش ، مسجد کی زمین کے مالکان کی تفصیل۔جب کہ مسجد سے منسلک افراد سے جو سوال پوچھے گئے ہیں ان میں نام ، ولدیت ، گھر کا پتہ ، موبائل نمبر ، ای میل ایڈریس ، پاسپورٹ ، کریڈٹ کارڈ ، بینک اکاؤنٹس اور ذاتی سواری کی تفصیلات ، کنبے کے کتنے افراد جموں و کشمیر سے باہر یا بیرونِ ملک ہیں اور ان کے سیاسی و سماجی رجحانات کیا ہیں۔
ایک امام مسجد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب اگلا قدم یہ ہوگا کہ اماموں کو خطبے اور خطاب کا متن بھی انتظامیہ سے منظور کروانا ہوگا۔متحدہ مجلسِ علما کشمیر نے دیگر عبادت گاہوں کو چھوڑ کے صرف مساجد اور ان سے جڑے مدارس کی تفصیلات جمع کرنے کو امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔اگست دو ہزار انیس میں کشمیر کی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے سری نگر کی مرکزی جامع مسجد کو قریباً دو برس تالہ لگا رہا اور اب بھی وقتاً فوقتآ بند کر دی جاتی ہے۔جب کہ جامع مسجد کے احاطے میں نمازِ عید کے اجتماع میں بھی ایک مخصوص تعداد شریک ہو سکتی ہے۔
کشمیری مسلمانوں کی نئی پود پر تعلیمی دروازے رفتہ رفتہ کس طرح بند ہو رہے ہیں۔اس کی ایک حالیہ مثال جموں کے ضلع ریسی میں قائم ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی رجسٹریشن کی منسوخی ہے۔اس کالج میں ایم بی بی ایس کے پہلے پنج سالہ بیج کی پچاس نشستوں میں سے بیالیس سیٹیں مسلمان امیدواروں نے تحریری امتحان میں اوپن میرٹ کی بنیاد پر حاصل کر لیں۔چنانچہ مقامی ہندو تنظیموں نے احتجاج شروع کر دیا۔
ان تنظیموں کا موقف تھا کہ چونکہ یہ میڈیکل کالج کشمیر کے مقدس مقام ویشنو دیوی کے بھگتوں کے چندے سے قائم ہوا ہے لہذا یہاں مسلمان طلبا کا داخلہ نہیں ہونا چاہئیے۔ہندو تنظیموں نے کالج کے گیٹ کے باہر کئی ہفتے دھرنا دیا۔بی جے پی کے مقامی ارکانِ اسمبلی نے بھی اس مطالبے کی حمائیت میں ریاست کے لیفٹیننٹ گورنر کو خط لکھا۔چنانچہ چھ جنوری کو نیشنل میڈیکل کمیشن نے اس بہانے میڈیکل کالج کا لائسنس منسوخ کر دیا کہ یہ ادارہ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے درکار اکثر انتظامی شرائط پوری کرنے سے قاصر رہا ہے۔کونسی انتظامی شرائط پوری نہیں ہوئیں ؟ یہ واضح نہیں۔ انتظامی شرائط پوری نہیں ہوئیں تو میڈیکل کالج کو کس بنیاد پر لائسنس دیا گیا۔یہ بھی واضح نہیں۔
ریاست کے وزیرِ اعلی عمر عبداللہ نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ویشنو دیوی کالج کے متاثرین کو ریاست کے دیگر میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں مسیحی برادری اس بار کرسمس نہیں منا سکی کیونکہ انتہا پسند ہندوؤں نے مقامی گرجوں میں گھس کے توڑ پھوڑ کی اور کرسمس کی ڈیکوریشن فروخت کرنے والی دوکانوں پر بھی حملے کیے۔ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسلام اور مسیحت بیرونی مذاہب ہیں اور ان کا بھارتی تاریخ و ثقافت سے کوئی لینا دینا نہیں۔پولیس نے تھوڑ پھوڑ کے الزام میں صرف چھ بلوائیوں کو حراست میں لیا اور ان کی بھی ایک روز بعد ضمانت ہو گئی۔وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اگرچہ کرسمس کے موقع پر دلی کے ایک کیتھولک چرچ میں کچھ وقت گذارا مگر کرسمس تہہ و بالا کرنے کے واقعات پر چپی سادھے رکھی۔
دلی میں بی جے پی کے ایک رکنِ اسمبلی کی قیادت میں مجمع نے نابینا بچوں کے کرسمس لنچ کی تقریب تتر بتر کر دی۔جن بچوں نے سانتاکلاز کی ٹوپی پہن رکھتی تھی ان کی ٹوپیاں نوچ لی گئیں۔کیرالہ کی ریاست میں مقامی بی جے پی کی جانب سے کرسچن اسکولوں کو دھمکیاں دی گئیں کہ کرسمس منانے کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔حالانکہ بھارت میں اسی فیصد ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد چودہ فیصد اور کرسچنز دو اعشاریہ تین فیصد ہیں۔مگر پروپیگنڈہ یہ ہے کہ مسلمان لو جہاد اور بھومی جہاد کر رہے ہیں اور مسیحی مشنریز دلت ہندوؤں کا مذہب بکثرت تبدیل کروا رہے ہیں۔
امریکی ادارے انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ برائے سال دو ہزار پچیس کے مطابق سیاسی ریلیوں ، عوامی اجتماعات اور سوشل میڈیا کے رویوں میں شدت کے سبب اقلیتوں کے خلاف نفرتی واقعات میں سال بہ سال اضافے کو خاموش ریاستی تائید حاصل ہے۔ ریٹنگ حاصل کرنے کے لیے اس آتش گیر دوڑ میں مین اسٹریم میڈیا پوری طرح شریک ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو ہزار تئیس میں مذہبی نفرت کی چھ سو اڑسٹھ وارداتیں ہوئیں جو دو ہزار پچیس میں دوگنی ہو کر تیرہ سو سے بھی تجاوز کر گئیں۔یعنی اوسطاً تین نفرتی وارداتیں روزانہ۔اٹھاسی فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں بی جے پی اور اتحادی جماعتیں برسرِ اقتدار ہیں۔اس عرصے میں مسیحوں کے خلاف نفرت میں بھی اکتالیس فیصد اضافہ ہوا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کے روز افزوں رجحان پر متعدد مختصر اور تفصیلی رپورٹیں شائع کی ہیں۔نفرتی جرائم میں کرائے پر مکان یا دوکان نہ دینے سے لے کر اقلیتی کاروبار کے بائیکاٹ ، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں انھیں الگ تھلگ کرنا یا امتیازی سلوک ، عبادت گاہوں پر حملے ، مذہبی تہواروں اور رسومات کو متشدد انداز میں روکنا ، گھروں کو بلڈوز کرنا ، تھانوں اور عدالتوں میں متعصبانہ و منتقمانہ سلوک اور گؤ رکھشکوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی لنچنگ سمیت سب ہی کچھ شامل ہے۔ بنیادی مقصد اقلیتوں کو خاموش اور بے شناخت بنانا ہے۔
کچھ عرصے پہلے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال نے دلی میں ینگ لیڈرز ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ماضی میں ہمارے گاؤں جلائے گئے ، ہماری تہذیب پر حملے ہوئے ، مندروں کو لوٹا گیا۔ہم بے بسی سے تماشا دیکھتے رہے۔ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔ اس دیش کو وہاں تک لانا ہے جہاں ہم اپنے حقوق ، نظریات اور عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم بھارت بنا سکیں ‘‘۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میڈیکل کالج بی جے پی اور ان
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم