نوجوان نسل امن اورمثبت سوچ کی طرف راغب ہو،عبدالوحید عباسی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پڈعیدن (نمائندہ جسارت) “آئیے مل کر نفرت، تشدد اور انتہا پسندی کو روکنے اور اس کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ضلع اور ملک میں رواداری، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کو فروغ دیں اور اپنی نوجوان نسل کو امن، محبت اور مثبت سوچ کی طرف راغب کریں۔ اقوام متحدہ نے 12 فروری 2026 کو عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تشدد و انتہا پسندی کی روک تھام کا عالمی دن قرار دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبدالوحید عباسی نے ضلعی انتظامیہ اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ضلعی سطح پر آگاہی بیدار کرنے کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نوشہرو فیروز محمد عثمان عارف، شہباز مطہر سہتو، ارباب علی اجن، سجاد میمن، ڈاکٹر حاکم جوکھیو، عبدالجبار تگر اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس سیمینار میں مختلف اسکولوں کے اساتذہ، طلباء ، این جی اوز کے نمائندوں سمیت مختلف اداروں کے افسران، صحافیوں اور شہریوں نے کثیر تعداد شرکت کی۔اس موقع پر تعلیمی اداروں کے طلباء ، اساتذہ اور مقررین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ آج تشدد اور انتہا پسندی کو روکنے کی شدید ضرورت ہے، ہمیں چاہیے کہ ایک قوم بن کر اسے روکیں اور اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔