ویلنٹا ئن ڈے کے ذریعے بے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے‘جماعت اہلسنّت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )جما عت اہلسنّت پاکستان کراچی کے ناظم سید رفیق شاہ،علامہ سید عبد القادر شاہ شیرازی،ڈاکٹر سید عبد الوہاب قادری نے کہاکہ ویلنٹا ئن ڈے کے ذریعے معاشرے میں مغربی کلچر کی یلغار اوربے حیائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔مغربی سوچ کے حامل مٹھی بھر افراد معاشرے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جائزر شتوں میں اظہار محبت سے مذہب نہیں روکتا۔حکومت ایسے تہوار وں کا راستہ روکے جو نوجواناں میں اخلاقی گراوٹ کا سبب ہوں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آزا دی کے نا م پر بے راہ روی نو جوا نو ں کے مستقبل کو تا ریک کر نے کے مترادف ہے۔مذمو م سا زش کے تحت مسلما نو ں کی تہذیب کو مٹا نے کیلئے مغربی اقوام کی شر م و حیا سے عاری بے ہو دگی کی یلغا ر جا ری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم معاشرے میں ویلنٹا ئن ڈے کا فروغ اسلا می ثقافت اور معاشرتی اقدار کی تباہی کا سبب، نوجوان نسل کو اخلاقی تباہی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلا می ثقا فت اعلیٰ اخلا ق اور بہترین انسا نی قدرو ں کی آئینہ دار ہے جو معاشرے کو شرا فت اور امن کا پیغا م دیتی ہے۔بحیثیت مسلمان ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ویلنٹائن ڈے جیسے غیر اخلاقی، بے ہودہ لغو کلچر کا بائیکاٹ کریں۔ شاہ عبد الحق نے مزید کہا کہ حکو مت و انتظا میہ کی بنیا دی ذمہ داری ہے کہ اسلا می قوا نین کا مذ اق اڑانے وا لی غیر شرعی اور غیر اخلا قی سر گر میو ں کی روک تھام کی خاطر سخت لائحہ عمل اپنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔