محراب پور: بلدیہ کی نااہلی ، معصوم بچی کھلے مین ہول میں گرگئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)چراغ تلے اندھیرا، محکمہ بلدیہ محراب پور کے مرکزی دروازے پر معصوم بچی کھلے گٹر میں گر گئی، مقامی نے ڈوبنے سے بچالیا،سیاسی سماجی رہنماؤں کی مذمت، محراب پور کے معروف اسپتال روڈ پر دفتر محکمہ بلدیہ کے سامنے بغیر ڈھکن کھلے گٹر میں وارڈ نمبر 15 کی رہائشی معصوم بچی رامین بنت شاہ کمبوہ گر کر زخمی ہوگئی ہے، مقامی افراد نے بچی کو بروقت نکال کر ڈوبنے سے بچا لیا، جماعت اسلامی کے ندیم احمد غوری، پاکستان فلاح پارٹی کے محمد ارشد قادری، سماجی تنظیم اسٹاپ کے محمود حسین نیئر، کل جماعتی اتحاد کے صدر یونس رفیق نے بچی کے گٹر میں گرنے کے واقعہ چیئرمین محکمہ بلدیہ جاوید میمن اور ٹاؤن ا?فیسر کی نا اہلی قرار دیا ہے رہنماؤں کے مطابق شہر کے اکثر گٹر ڈھکن کے بغیر موت کے کنویں بنے ہوئے ہیں محکمہ بلدیہ محراب پور کو ماہانہ تقریبا 4 کروڑ کا بجٹ ملتا ہے جو باہمی ملی بھگت سے خردبرد ہورہا ہے، ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز، صوبائی وزیر بلدیہ اور حکومت سندھ نوٹس لے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محکمہ بلدیہ محراب پور
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔