data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

گوادر (نمائندہ جسارت) گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ڈی جی جی ڈی اے معین الرحمن۔ چیف انجینئر حاجی سعد محمد نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دو سالہ خشک سالی کے باعث شہر کے اہم ڈیمز خشک ہو گئے تھے، جس سے پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے بحران کے عروج پر پانی کی ذمہ داری جی ڈی اے کے سپرد کی، جس کے بعد ہنگامی اور مستقل بنیادوں پر اقدامات کیے گئے۔جی ڈی اے نے وفاقی فنڈز سے 11 ارب روپے بیس کروڑ چار لاکھ روپئے کی لاگت سے گوادر سٹی.

میں.واٹر سپلائی منصوبہ مکمل کیا، جس کے تحت ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنز، واٹر ٹینکس اور پمپنگ اسٹیشنز تعمیر کیے گئے۔بحران کے دوران میرانی ڈیم، شادی کور ڈیم اور جی پی اے ڈی سیلینیشن پلانٹ سے مجموعی طور پر 335 ملین گیلن پانی فراہم کیا گیا۔شادی کور پائپ لائن کو بحال کر کے یومیہ 25 لاکھ گیلن تک پانی کی فراہمی ممکن بنائی گئی، جبکہ مہنگا ٹینکر سسٹم مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔جی ڈی اے کے مطابق شہر میں نئی پائپ لائنز اور ہاؤس کنکشنز کا عمل جاری ہے،جبکہ جلد پانی کی بلنگ کا باقاعدہ نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

نمائندہ جسارت گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جی ڈی اے پانی کی

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا