Jasarat News:
2026-06-02@22:05:44 GMT

ایپسٹین فائلز: ثنا خوان ’’تقدیس مغرب‘‘ کہاں ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260214-03-6

ایڈ ورڈ سعید کی کتاب ’’Orientalism‘‘ بمعنی مشرق شناسی ایک نادر کتاب ہے۔ جس میں مغرب کی جانب سے مشرق خاص طور پر مسلمان معاشروں کو ایک خاص متعصب زاویے سے دیکھنے اور پیش کرنے کے تنقیدی فریم ورک پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مغرب کس طرح مشرق کو غیر منطقی، کمتر اور پسماندہ ثابت کرنے کے لیے علمی اور ثقافتی تصورات کے بیانیے بدل بدل کر قائم کرتا ہے اور طے کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ مغرب اخلاقی اور تہذ یبی طور پر مشرق سے بلند ہی نہیں بہت بلند ہے۔

برطانیہ اور فرانس نے مشرق وسطیٰ اور ایشیا پر قبضے سے پہلے ان علاقوں کے بارے میں ایک بیانیہ تخلیق کیا تھا جس میں مشرق کو ایک غیر متغیر، جاہل، اُجڈ اور تہذیب سے بیگانہ معاشرہ دکھایا گیا اور یہ تصور دیا گیا کہ مشرق خود سے ترقی نہیں کرسکتا۔ ترقی اور تبدیلی صرف مغربی مداخلت سے ہی ممکن ہے۔ لارڈ کرومر نے لکھا تھا ’’مصری فطری طور پر غیر منطقی ہیں‘‘ ارنسٹ رینان نے ’’سامی اقوام کو ذہنی طور پر محدود قرار دیا‘‘۔ جیمز مل نے لکھا تھا ’’ہندوستانی تاریخ قابل اعتبار نہیں ہے، ہندوستانی ذہن سائنسی نہیں ہے، یہاں ترقی کا کوئی حقیقی تصور موجود نہیں‘‘۔ یہ سب اس نے اس وقت لکھا جب وہ کبھی ہندوستان گیا بھی نہیں تھا۔

قرون وسطیٰ سے لے کر نو آبادیاتی دور تک اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلنے والا مذہب کہا گیا۔ مسلم معاشروں کو عورت دشمن اور جنسی طور پر پراسرار دکھایا گیا۔ مسلم حکمرانوں کے حرم اور پردے کو وحشت کی علامت بناکر دکھایا گیا۔ مغربی ادیبوں اور مصوروں نے مسلم حکمرانوں، بادشاہوں اور شہزادوں اور وزراء کے حرموں کی ایسی منظر کشی کی جو زیادہ تر تخیلاتی اور وحشت زدہ کردینے والی تھیں۔ جن میں مسلم حکمران طبقے کو ہر طرح عیاش اور جنسی طور پر کجروی میں مبتلا دکھایا گیا۔ ان تفصیلات سے یہ خیال قائم کرنا مقصود تھا کہ مسلم دنیا کو آزاد کرانا مغرب کا فرض ہے۔

ایڈورڈ سعید کے مطابق مغرب کی مشرق شناسی محض تہذیبی شناخت یا پھر علم کے حصول کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ مغرب کا مشرق کے خلاف طاقت حاصل کرنے اور خود کو برتر ثابت کرنے کے لیے ایک طریقہ ہے۔ ایک تخیلی فریم ورک کے ذریعے مغرب مشرق کو اپنے سے کمتر اور حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مشرقی معاشروں کو گناہوں، پس ماندگی اور غیراخلاقی عمل سے منسلک کرتا ہے۔ یہ مشرق کے خلاف مغرب کا ایک فکری ہتھیار ہے۔ مشرق جیسا ہے مغرب اسے ویسا نہیں دیکھتا بلکہ جیسا اس کے مفاد میں ہے ایسا دیکھتا ہے۔

مغرب نے مشرق کی یہ تصویر اقتدارکی ضرورت کے لیے بنائی ہے جسے صدیوں سے سچ مانا جارہا ہے۔ اخلاقیات کو پیمانہ نہیں بلکہ ایسی چھڑی بنادیا گیا ہے جس سے غیر مغربی دنیا کو ناپا، کوسا اور پیٹا جاتا ہے۔ مغرب سمجھتا ہے کہ چونکہ ان کے پاس طاقت اور اقتدار ہے لہٰذا وہی یہ طے کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ مہذب کون ہے اور مجرم کون ہے۔ مغرب نے مشرق دشمنی میں علم کو بھی غیر جانبدار نہیں رہنے دیا ہے۔ مغرب میں علم بھی ہمیشہ کسی نہ کسی طاقت کے ڈھانچے سے جڑا ہوتا ہے۔ جاننے اور بیان کرنے کو بھی مغرب نے غلبہ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بنادیا ہے۔

مغربی عربی فارسی اور سنسکرت کے ماہرین ہوں، مشرقی تاریخ کے پروفیسرز یا پھر مستشرقین ان کا مطالعہ اور پیش کردہ مواد غیر جانبدارانہ نہیں ہوتا۔ مغرب نے مشرق اور مغرب کی ایک ایسی نظریاتی تعمیر کی ہے جس میں مشرق جذباتی، غیر منطقی، جامد اور پسماندہ ہے جب کہ مغرب عقلی، ترقی یافتہ، مہذب اور متحرک ہے۔ مشرق کو مذہبی شدت پسند، عجیب، خطرناک اور جنسی طور پر بے قابو دکھایا گیا ہے۔ یہ تصویر ادب، سفرناموں، نوآبادیاتی رپورٹوں اور ناولوں میں مسلسل دہرائی گئی ہے۔

ایپسٹین فائلز نے مغرب کی اس اخلاقی بالادستی کے تصور کو بری طرح چیلنج ہی نہیں کیا اسے انتہائی گھنائونا، گندہ اور گھٹیا ثابت کیا ہے۔ مغرب نے ہمیشہ اپنے رہنمائوں اور ہر شعبہ فکر کے قائدین کو اخلاقی اعتبار سے برتر اور صاف ستھرا پیش کیا ہے۔ ایپسٹین فائلز میں یہی مغربی طاقتور طبقہ، سیاسی، ثقافتی، اقتصادی اور ایلیٹ کلاس بچوں کے جنسی استحصال، طاقتور غیرقانونی تعلقات اور قانونی تحفظ کے نظام میں مداخلت اور توڑپھوڑ جیسی سنگین بدعنوانیوں میں ملوث نظر آتی ہے، گرفت کے ہر خوف سے بے نیاز۔

جو بیانیہ مغرب کے بارے میں قائم کیا گیا تھا اور جن جہتوں سے اسے مشرق سے بلند تر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی ایپسٹین فائلز کے حقائق نے اسے گندے جوہڑوں میں دفن کردیا ہے۔ ایپسٹین فائلز بتاتی ہیں کہ مغربی طاقت، اختیار، رسائی اور اثرو رسوخ کے ذریعے اپنے جرائم کو چھپانے میں کس چالاکی سے کامیاب رہی ہے جب کہ اس دوران وہ دوسری ثقافتوں خاص طور پر مسلم ثقافت پر اپنی اخلاقی برتری ثابت کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ مغربی حکمران طبقہ اور ایلیٹ کلاس کس طرح طاقت کے اندرونی رشتوں میں منسلک ہیں اور کس گھنائونے طریقے سے اسے استعمال کرتی اور اپنی اخلاقی جرائم کی پردہ پوشی کرتی ہیں اس کے بعد بلند اخلاقی معیار کے دعووں کے لیے اسے کتنے بڑے سائز کا کچرادان چاہیے کوئی ہے جو بتا سکے؟

ایپسٹین فائلز صرف ایک فرد جیفری ایپسٹین کی سیاہ کاریوں کی تفصیلات نہیں بلکہ مغربی اشرافیہ کے ایک نظام کو بے نقاب کرتی ہیں اور عدالت، طاقت اور رسوخ کے ملاپ کو عریاں کرتی ہیں۔ جنہوں نے مل کر طاقتوروں کے جرائم کی پردہ پوشی کی۔ وہ مغربی ایلیٹ کلاس جو دوسروں کو اخلاق کے درس دیتی ہے خود اخلاقی گراوٹوں کی کتنی گہرائیوں میں اُتری ہوئی ہے یہ اسکینڈل اس کی ایک بڑی تصویر ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح مغربی اشرافیہ صرف ظلم ہی نہیں کرتی بلکہ ظلم کا ایک نظام تخلیق کرتی ہے اور پھر اسے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

جیفری ایپسٹین صرف ایک مجرم کا نام نہیں وہ صدر، وزرائے اعظم، شہزادے، ارب پتی اور مشہور شخصیات جیفری ایپسٹین ہیں جو اس نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔ اس نیٹ ورک کا جس میں عدالتیں خاموش، جج گونگے بہرے اور انصاف دولت کے آگے سربہ سجدہ تھا۔ 2008 جب ایپسٹین کو فلوریڈا کی عدالت میں نابالغ لڑکی سے فحش تعلقات اور فحش بازی کا انتظام کرنے کی سزادی گئی تو یہ صرف اٹھارہ ماہ قید کی سزا تھی حالانکہ ان جرائم میں اسے عمر قید کی سزا ہوسکتی تھی۔ سزا میں نرمی کا یہ حال تھا کہ وہ روزانہ دن کے 12 گھنٹے جیل سے باہر گزارتا تھا اور صرف رات کو واپس جیل میں آتا تھا۔ مقام حیرت یہ کہ متاثرین کو اس سزا کے بارے میںکچھ بتایا بھی نہیں گیا تھا۔ امریکی لیبر سیکرٹری الیگزیڈر اس معاملے میں شامل تھا۔

جس طرح مسلم ممالک میں ایلیٹ کلاس اور حکمران طبقے کے لیے الگ قوانین اور عام آدمی کے لیے الگ قوانین ہیں مغرب میں بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغرب ہو یا مشرق صرف اسلامی تعزیری قوانین سے ہی ایسے جرائم کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔ ایپسٹین فائلز ہمارے لیے بھی محض طنز اور مغرب پر دشنام کا موقع نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں اسلام اور خلافت راشدہ کے نظام کے احیاء کی کوششوں میں تیزی لانے کی اہمیت کو ثابت کرتا ہے۔

بابا الف سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز کرنے کی کوشش دکھایا گیا مشرق کو کرتا ہے کہ مغرب نہیں ہے مغرب کی کے لیے

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ