Jasarat News:
2026-06-02@23:30:51 GMT

بنگلا دیش کے تاریخی پارلیمانی انتخابات

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اَلْحمد لِلّٰہ! بنگلا دیش کے تاریخی پارلیمانی انتخابات بخیر و خوبی انجام پذیر ہوئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے جب کہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے مثالی اور اطمینان بخش ہیں کہ پورے انتخابی عمل میں ماحول خوش گوار رہا اور انتخابات کے روز کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ عبوری حکومت کے انتظامات کے نتیجے میں انتخابات کی شفافیت بھی بڑی حد تک قائم رہی اور کسی سنگین بدعنوانی کی شکایات عمومی طور پر موصول نہیں ہوئیں، بد نظمی یا بدامنی کا کوئی اکا دکا واقعہ اگر کہیں مقامی سطح پر سامنے آیا بھی اس سے انتخابات کے مجموعی ماحول اور نتائج پر کوئی قابل ذکر اثر نہیں ہوا۔ یہ انتخابات جولائی 2024ء میں بھارت نواز اور مخالفین کے لیے شدید انتقامی جذبات رکھنے والی بنگلا دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی ظالم حسینہ کی شہرت رکھنے والی بیٹی شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹے جانے اور اس کے بھارت فرار ہونے کے بعد وجود میں آنے والی عبوری حکومت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے تھے چنانچہ پچپن ہزار سے زائد مبصرین نے ان انتخابات کی نگرانی کی۔ بنگلا دیشی الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات اور ریفرنڈم کے مشاہدے کے لیے تقریباً 200 غیر ملکی صحافی بھی بنگلا دیش پہنچے، بین الاقوامی مبصرین میں سے 80 مختلف عالمی تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں جب کہ باقی مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں آزاد یورپی مبصرین بھی شامل ہیں۔ مبصرین 21 ممالک سے آئے جن میں پاکستان 8، بھوٹان 2، سری لنکا 11، نیپال1، انڈونیشیا 3، فلپائن 2، ملائیشیا 6، اردن 2 ، ترکیہ 13، ایران 3، جارجیا 2، روس 2، چین 3، جاپان 4، جنوبی کوریا 2، کرغزستان 2، ازبکستان 2، جنوبی افریقا 2 اور نائجیریا 4 شامل ہیں۔ بنگلا دیش کی معزول اور مفرور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنی کالعدم جماعت عوامی لیگ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری شدہ بیان میں اگرچہ ان انتخابات کو منصوبہ بند ڈراما قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عوامی لیگ کے بغیر کرائے گئے فریب پر مبنی اور ووٹرز کے بغیر ہونے والے ان انتخابات میں کوئی شفافیت نہیں تھی ان کے بقول ملک بھر کے پولنگ اسٹیشن پر ووٹرز کا ٹرن اوور نہ ہونے کے برابر تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک میں ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں جن میں سب کو حصہ لینے کی آزادی ہو۔ تاہم بھارت میں پناہ گزیں شیخ حسینہ واجد بارہ فروری کے عام انتخابات پر یہ تبصرہ کرتے ہوئے ان حقائق کو فراموش کر گئیں کہ ان کے اپنے طویل دور اقتدار میں مخالفین کو کس قدر اذیت ناک سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں کو اختلاف رائے کے جرم میں پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا۔ جرم بے گناہی میں جماعت اسلامی کے سیکڑوں کارکنوں اور رہنمائوں کو پھانسی اور قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا۔ اب عوامی لیگ پر پابندی کے خلاف واویلا کرتے ہوئے وہ معلوم نہیں اس حقیقت کو کیوں بھول جاتی ہیں کہ خود انہوں نے اپنی حکومت کے دوران جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو تختہ دار ہی پر نہیں لٹکایا تھا بلکہ بطور سیاسی پارٹی، جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے کر اس کے انتخابات میں حصہ لینے سمیت ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں کے راستے اس پر بند کر دیے تھے سب سے اہم اور بڑی بات یہ بھی ہے کہ انتخابات کی نگرانی کرنے والے ہزاروں کی تعداد میں مبصرین نے شیخ حسینہ کے الزامات کی تائید نہیں کی بلکہ ان کی اکثریت کی رائے ان کے خیالات کے قطعی برعکس ہے۔ ان ہی مبصرین کے فراہم کردہ اعتماد کی بنیاد پر عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انتخابات ملکی تاریخ کا سب سے پرامن موقع تھا یہ ہمارے لیے بڑی خوشی اور جشن کا وقت ہے، بنگلا دیش کے ایک بے مثال سفر کا آغاز ہوا ہے، یہ انتخاب ملکی تاریخ کا سب سے پر امن تہوار تھا، اگر اس رجحان کو برقرار رکھا گیا تو ہماری جمہوریت عروج پر پہنچ جائے گی۔ ڈاکٹر محمد یونس کے یہ خیالات بڑی حد تک حقائق کی درست عکاسی کرتے ہیں کیونکہ اب تک جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ان انتخابات کے دوران مد مقابل سیاسی عناصر کے مابین تصادم کا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا اور جو چھوٹے موٹے اکا دکا واقعات ہوئے بھی ہیں ان میں ہونے والا جانی و مالی نقصان یقینا وطن عزیز کے ایک صوبے کے ایک شہر میں وزیر اعلیٰ کے شوق کی تکمیل کی خاطر منائے گئے جشن بسنت میں ہونے والے نقصانات سے کہیں کم ہے۔ ان انتخابات کا ایک نہایت خوش گوار پہلو یہ بھی ہے کہ انتخابی کامیابی کے حوالے سے دوسرے نمبر پر رہنے والی جماعت اسلامی، جو ظاہر ہے مستقبل میں تشکیل پانے والی بی این پی کی حکومت کے مد مقابل موثر اور جاندار حزب اختلاف ہو گی، اس کے امیر نے انتخابی نتائج کے فوری بعد منفی جذبات کے اظہار کے بجائے نہایت مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد اپنی ابتدائی تقریر میں انتخابی عمل یا جیتنے والے فریق پر تنقید اور الزام تراشی کرنے کے بجائے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت صرف مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کرے گی بلکہ مثبت اور ملک و قوم کے مفاد میں سیاست کو فروغ دے گی۔ کاش وطن عزیز کے سیاست دان اور مقتدر و فیصلہ ساز حلقے بھی سابق مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلا دیش کے فروری 2026ء کے انتخابی عمل اور وہاں کے سیاست دانوں کے مثبت طرز عمل کو اپنے لیے مشعل راہ بنا سکیں تاکہ یہاں کے عوام کا اعتماد سیاسی و انتخابی عمل پر بحال ہو سکے! انتخابات میں کامیابی کے بعد بی این پی بنگلا دیش میں مستقبل کی حکومت تشکیل دے گی جس کے وزیر اعظم پارٹی کے ساٹھ سالہ سربراہ طارق رحمن ہوں گے۔ وہ دسمبر 2025ء میں تقریباً دو دہائیوں کی جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئے، جب سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کو برطرف کیا جا چکا تھا، جو ان کی والدہ کی سخت سیاسی حریف رہی ہیں۔ طارق رحمان سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کے صاحبزادے ہیں، جو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ وہ 2008ء سے لندن میں مقیم رہے اور 2018ء سے بی این پی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر پارٹی کی قیادت کرتے رہے۔ حسینہ واجد کے دور حکومت میں طارق رحمان کو منی لانڈرنگ اور 2004ء میں ان پر قاتلانہ حملے کی مبینہ سازش سمیت مختلف مقدمات میں سزا سنائی گئی تھی، تاہم حسینہ کی برطرفی کے بعد یہ فیصلے کالعدم قرار دیدیے گئے۔ رواں ماہ کے اوائل میں طارق رحمان نے اپنی بڑی حریف جماعت اسلامی کی جانب سے قومی اتحاد حکومت کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی اپنے بل بوتے پر کامیابی کے لیے پر اعتماد ہے۔ بی این پی نے اپنی سیاست کو معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کے نعروں کے گرد مرکوز کر رکھا ہے۔ اب آنے والا وقت یہ بتائے گا کہ بی این پی ملک کے سیاسی و معاشی استحکام کے دعوئوں میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ بہرحال اہل پاکستان کے لیے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی طرح بی این پی حکومت بھی پاکستان سے دوستانہ تعلقات کے فروغ کو ترجیح دے گی۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش کے ان انتخابات حسینہ واجد بی این پی حکومت کے نے والی نے اپنی کے بعد کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان