خضدار، این اے 256 کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سردار اختر مینگل کے استعفیٰ سے قومی اسمبلی میں خالی ہونیوالی نشست این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پولنگ 5 اپریل ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے استعفیٰ سے خالی ہونیوالی قومی اسمبلی ک نشست پر 5 اپریل کو پولنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے بلوچستان سے قومی اسمبلی کی خالی نشست حلقہ این اے 256 خضدار پر ضمنی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ جو بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے استعفیٰ کے باعث خالی ہوئی۔ شیڈول کے مطابق ضمنی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی 20 سے 24 فروری تک جمع کروائے جا سکیں گے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 4 مارچ کو ہوگی۔ امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 17 مارچ تک واپس لے سکیں گے، جبکہ پولنگ 5 اپریل کو ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے این اے 256 خضدار کیلئے ڈی آر او، آر او اور اے آر اوز تعینات کر دیئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔