عمران رضوی ، لطافت مرزا کی تعیناتیاں،چھ فٹ گلی، 80فٹ بلندی پر ’زیرِ جائزہ‘ کی مہر
مافیا کو قاسم آباد پلاٹ نمبر 1006، 20/10بی ون ایریا پر غیر قانونی تعمیرات کی کھلی چھٹی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران کی مبینہ ملی بھگت اور تعمیراتی مافیا کی بے لگام حرکتوں کے باعث لیاقت آباد کے بی ایریا اور قاسم آباد کی تنگ گلیوں میں آٹھ منزلہ غیر قانونی عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چھ فٹ چوڑی گلی میں 80 فٹ بلند عمارت نہ صرف قانون بلکہ عقلِ سلیم کا بھی مذاق ہے ۔ اتھارٹی کے ریکارڈ میں ان عمارتوں کی فائلوں پر’زیرِ جائزہ‘ کی مہر ثبت ہے ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی اور بلڈنگ انسپکٹر لطافت مرزا کی مبینہ ملی بھگت نے اس تعمیراتی بے راہ روی کو ہوا دی ہے ۔ زمینی حقائق کے مطابق قاسم آباد کے رہائشی پلاٹ نمبر 1006 اور بی ون ایریا کے پلاٹ نمبر 20/10 پر خلاف ضابطہ تعمیرات کی مافیا کو کھلی چھٹی دی جاچکی ہے ۔مقامی باشندوں کا الزام ہے کہ ان افسران کی نگرانی والے علاقوں میں کوئی بھی عمارت نقشے کے مطابق نہیں بن رہی۔ عمارت ساز مافیا پیشگی فروخت کے ذریعے عوام کو حفاظتی سرٹیفکیٹ کے جھانسے دے کر لاکھوں روپے وصول کر رہے ہیں۔ماہرینِ شہری منصوبہ بندی کے مطابق تنگ گلیوں میں آٹھ منزلہ عمارتیں زلزلے ، آتش زدگی اور سیوریج کے نظام سمیت کئی سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہیں۔ غیر معیاری تعمیر اور کمزور بنیادوں پر کھڑی یہ عمارتیں معمولی زلزلے میں بھی گرنے کا خطرہ رکھتی ہیں، جبکہ تنگ گلیوں میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا داخلہ ناممکن ہے ۔ موجودہ نکاسی آب کا نظام آٹھ منزلہ عمارتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے رہے ہیں، تاہم اب تک کسی بھی عمارت کو مسمار کرنے یا ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی عمارتیں فوری مسمار کی جائیں اور ملی بھگت میں ملوث افسران کو معطل کیا جائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اتھارٹی کے سندھ بلڈنگ

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے