ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہوگی جو ہوسکتی ہے، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہوگی جو ہوسکتی ہے، وہ 47 سال سے بس باتیں ہی کرتے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑ اطیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آرفورڈ مشرق وسطیٰ روانہ کیا جارہا ہے۔ ایران سے ڈیل نہیں ہوئی تو ہمیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بحری بیڑا جلد مشرق وسطیٰ روانہ کیا جائے گا، ہمارا ایک بحری بیڑا پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ توقع ہے ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ ہم ایران کے ساتھ ڈیل چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔