بنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 212 نشستیں جیتنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز ملک بھر میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج جاری کر دیے ہیں، جن کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے دو تہائی اکثریت حاصل کر کے واضح کامیابی حاصل کر لی ہے۔
الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ حتمی اعداد و شمار کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 212 نشستیں جیت کر واضح برتری حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور ووٹرز کی بڑی تعداد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، نتائج کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے نامزد وزیراعظم طارق رحمان کی جماعت نے ملک بھر میں بھرپور عوامی حمایت حاصل کی۔
تاہم طارق رحمان کی جانب سے انتخابی نتائج پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جبکہ بی این پی قیادت نے کارکنان اور عوام سے جشن منانے کے بجائے سجدہ شکر ادا کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ادھر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) توقعات کے برعکس خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکی اور 30 میں سے صرف 5 نشستیں جیت پائی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج ملکی سیاست میں ایک نئی صف بندی اور طاقت کے توازن میں واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی نے بعض حلقوں میں انتخابی عمل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کیے ہیں اور احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔
جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ نتائج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، تاہم ساتھ ہی جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی کہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے سیاست برائے سیاست کے بجائے تعمیری اور مثبت کردار ادا کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 300 نشستوں پر مشتمل بنگلادیش کی قومی اسمبلی (جاتیا سنگساد) کے 299 حلقوں میں انتخابات منعقد ہوئے جبکہ ایک حلقے میں جماعت اسلامی کے امیدوار کے انتقال کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی تھی، ان انتخابات کے نتائج کو بنگلادیش کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے۔
اس انتخابی عمل کا انعقاد 2024 میں ملک گیر حکومت مخالف تحریک کے بعد پہلی مرتبہ کیا گیا، جن کے اثرات نے سیاسی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں اور دو دہائیوں تک اقتدار میں رہنے والی شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا اختتام ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جماعت اسلامی بی این پی کے مطابق
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی