بجلی کے ٹیرف میں تبدیلی کا بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے، آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعہ کو ریئٹرز کو بتایا کہ وہ پاکستان کے حکام کے ساتھ بجلی کے ممکنہ نرخوں میں ترمیم پر تبادلہ خیال کر رہا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ یہ بوجھ درمیانے اور کم آمدنی والے گھرانوں پر نہ پڑے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ جاری مذاکرات میں یہ جانچا جائے گا کہ تجویز کردہ نرخ اصلاحات آئی ایم ایف کے وعدوں کے مطابق ہیں یا نہیں اور ان کے ممکنہ اثرات، بشمول مہنگائی اور معاشی استحکام، کا تجزیہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کو اقتصادی اصلاحات میں سنگ میل قرار دے دیا
وفاقی حکومت نے حال ہی میں بجلی کے نرخوں میں ایک جامع تبدیلی کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد صنعت پر بوجھ کم کرنا اور آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ملک کی اقتصادی کمزوریوں اور درمیانی مدتی بیلنس آف پیمنٹس کے مسائل کو حل کرنا ہے۔
بجلی کے نرخ صارف قیمت اشاریے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ تبدیلیاں حساس ہیں، خاص طور پر جب مہنگائی، جو 2023 میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب 5.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے صنعت میں نرخ 13 تا 15 فیصد کم ہو سکتے ہیں اور 102 ارب روپے کے سبسڈی ہٹائی جائیں گی، جبکہ درمیانے طبقے کے گھرانے بجلی کے لیے تقریباً 50 فیصد زیادہ ادائیگی کریں گے۔
سب سے کم آمدنی والے صارفین، جو ماہانہ 1 سے 100 یونٹ استعمال کرتے ہیں، کے لیے فکس چارج 400 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صنعتی صارفین پر بوجھ کم ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری
دوسری جانب، نیپرا نے چھت پر نصب سولر سسٹمز کے لیے بجلی خریداری کے نرخ بھی کم کر دیے ہیں، جس سے سولر صارفین کی بچت کم اور بجلی کی طلب میں کمی کی وجہ سے یوٹیلٹیز کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ سولر صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے، تاکہ 37.6 ملین گرڈ صارفین پر غیر ضروری اثر نہ پڑے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ فکس چارج صارفین کو مکمل طور پر گرڈ سے علیحدہ کر سکتا ہے، جس سے نظام کی طویل مدتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Tarrif آئی ایم ایف ٹیرف قرض
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ٹیرف آئی ایم ایف بجلی کے کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔