نئی دلی، ”این آئی اے“ عدالت نے 2 کشمیریوں کو جھوٹے مقدمے میں 15 برس قید کی سزا سنائی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
یاد رہے کہ اس وقت حریت رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت چار ہزار سے زائد کشمیری جھوٹے مقدمات کے تحت جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے دو کشمیریوں کو ایک جھوٹے مقدمے میں 15 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ذرائع کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے رہائشیوں ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر کو ستمبر 2017ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے ان کے خلاف مارچ 2018ء میں فرد جرم داخل کی تھی۔ عدالت نے انہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون”یو اے پی اے“ کے تحت 15،15 برس قید کی سزا سنائی۔ انہیں ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔ این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دنوں عسکریت پسندوں کو پناہ اور خوراک وغیرہ مہیا کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس وقت حریت رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت چار ہزار سے زائد کشمیری جھوٹے مقدمات کے تحت جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی اے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔