واشنگٹن میں لاہور سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی کی تشدد زدہ لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
رواں ہفتے کے شروع میں امریکی دارالحکومت میں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں لگنے والی آگ کے بعد فائر فائٹرز حکام نے ایک گھر میں خوفناک مںظر دیکھا جہاں پاکستانی نژاد امریکی شخص کی تشدد لاش پائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن فائر اینڈ ایمرجنسی میڈیکل سروسز بدھ کو ایک گھر میں دھوئیں کی اطلاع پر پہنچی، فائر فائٹرز حکام ایک اپارٹمنٹ میں داخل ہوئے، آگ کو بجھایا اور شخص کو بے ہوش پایا۔
بعد میں میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ نے مقتول کی شناخت 40 سالہ سید حماد حسین کے نام سے کی، عہدیداروں نے بتایا کہ مردہ شخص کے جسم پر زخموں کے نشانات پائے گئے۔
جمعے کو جاری کردہ سرکاری بیان میں پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے بعد معاملہ پولیس کو بھیجا گیا اور جمعہ تک، کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔
تفتیشی حکام پڑوس میں واقع عمارت سے ملنے والی سیکییورٹی کیمرے کی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تحقیقات سے آگاہ ذرائع نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ فوٹیج میں آگ لگنے سے کچھ دیر پہلے حماد حسین کو تین دیگر افراد کے ساتھ عمارت میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا جن میں ممکنہ طور پر ایک خاتون بھی شامل ہے، انہی افراد کو بعد میں عمارت سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔
حکام نے عوام سے معلومات کی اپیل کی اور میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ نے قتل کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے سلسلے میں معلومات دینے والے کے لیے 25 ہزار ڈالرز انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
حماد حسین کے خاندان کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ واشنگٹن میں رہائش پذیر ہے، حماد حسین کی نماز جنازہ آج فالس چرچ، ورجینیا کے دار الحجرہ اسلامک سینٹر میں ادا کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔