عمران خان کی صحت پر کسی کو سیاست کرنے نہیں دوں گا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے تاحیات چیئرمین عمران خان کی صحت پر کسی بھی صورت سیاست نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے اپنے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ عمران خان کی صحت ان کی سیاست سے بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے اور اس کے لیے وہ خود تمام اقدامات کریں گے۔
سہیل آفریدی نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ پوری قوم میں عمران خان کے لیے جو محبت اور غصہ پایا جا رہا ہے، اسے اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سخت اور نازک وقت میں حکمت اور صبر کے ساتھ قدم اٹھانا ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں عمران خان کی پوشیدہ حکمت عملی ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عمران خان کوئی معمولی شخص نہیں، بلکہ پاکستان کے سابق اور موجودہ وزیر اعظم ہونے کے ناتے ان کے ساتھ ہونے والا مذاق ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بہترین علاج اس وقت حکومت اور پارٹی کی اولین ترجیح ہے ،وہ کسی صورت اس معاملے میں آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
سہیل آفریدی نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ بغیر کسی آفیشل کال کے نکلنے والے پُرامن کارکنان کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی غیر قانونی یا انتشاری گروپ کی کوششوں کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جھوٹی خبر پر یقین نہ کیا جائے جب تک کہ عمران خان کی فیملی یا پارٹی کی جانب سے تصدیق نہ ہو۔
آخر میں انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق علاج 16 فروری تک مکمل ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی سہیل آفریدی انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔