عمران خان کی آنکھ کا معاملہ، علیمہ خان پھٹ پڑیں، سخت ردعمل WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے، عمران خان کی آنکھ کا چھپ کر علاج کروانا قبول نہیں۔

عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں عمران خان سے متعلق تفصیلات اس وقت ملیں جب سلمان صفدر کو سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بتایا کہ انہیں 3 ماہ سے دھندلا نظر آ رہا تھا تاہم صحت کے حساب سے وہ فٹ ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ آنکھ کی شکایت پر آئی ڈراپ دی گئی جب کہ ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھ سے پانی نکل رہا تھا۔

علیمہ خان کا کہنا تھا کہ آنکھ کا علاج نہ کرنے پر غفور انجم جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹر مجرم ہیں۔ اگر کل بھوشن ہوتا تو پورے پاکستان کی میڈیکل ٹیم پہنچ جاتی۔ عمران خان کا جرم یہ ہے کہ وہ عوام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کمینہ نہیں ہونا چاہیے ۔ پیٹھ پر چھرا مارنے والا ہیرو نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے علاج کے لیے کوئی حکم نہیں لکھا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں چھپا کر علاج کروانا قبول نہیں ہے ۔ عمران خان کے ذاتی معالج کی موجودگی کیوں قبول نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کے پی کے کے تمام ایم این اے، محمود اچکزئی اور ناصر عباس نقوی کے احتجاج پر شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے کو بند کر دیا جائے جب تک عمران خان کا علاج نہیں کروایا جاتا۔

علیمہ خانم نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا علاج کروایا جائے ۔ انہوں نے تمام لوگوں سے اپیل کی کہ کے پی کے بند ہونے پر لوگ برداشت کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی رپورٹس پر اعتبار نہیں کریں گے۔ بے بس کمزور پر زور دکھانے والا کمینہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ رات کو فون آیا تھا کہ اسپتال میں علاج کروا دیں گے مگر ان کے ڈاکٹر اور فیملی ممبر نہیں ہوں گے، جو ہمیں قبول نہیں ہے، صحیح طرح سے علاج کروایا جائے۔

قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 5 اکتوبر کو پولیس پر مبینہ تشدد اور سڑک بلاک کرنے کے مقدمے میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت اے ٹی سی جج منظر علی گل نے کی، جس میں عدالت نے پراسیکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ اور وکلا سے دلائل طلب کرلیے ۔

عدالت نے علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع کردی۔ آج کی سماعت میں علیمہ خان نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی ۔ واضح رہے کہ اس کیس کا مقدمہ تھانہ شفیق آباد میں درج ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیزائل پروگرام ریڈ لائن ہے، ایران کا ایک بار پھر اس پر کسی قسم کے مذاکرات سے انکار میزائل پروگرام ریڈ لائن ہے، ایران کا ایک بار پھر اس پر کسی قسم کے مذاکرات سے انکار عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ پختونخوا جنسی زیادتی میں ملوث ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی، ممکنہ طورپرانکا گلادبایا گیا، ڈاکٹر کا دعویٰ بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے: آئی ایم ایف سری لنکا کے 78ویں یومِ آزادی پر اسلام آباد میں شاندار استقبالیہ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ مہمانِ خصوصی امریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کیلیے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنےکا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: عمران خان کی ا نکھ علیمہ خان ا نکھ کا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل