آزاد جموں و کشمیر کے محتسب نے 4 ممبران قانون ساز اسمبلی کی جانب سے خلاف ضابطہ حاصل کی گئی سرکاری گاڑیاں واپس نہ کرنے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے ذریعے گاڑیاں واپس لینے کا حکم دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر

آزاد جموں و کشمیر محتسب سیکریٹریٹ کی جانب سے آئی جی آزاد کشمیر کے نام جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ محتسب نے گاڑیوں کی ریکوری کے لیے محتسب ایکٹ 1992 (ایکٹ نمبر 14) کی دفعہ 9(1) کے تحت ازخود نوٹس لیا ہے۔

مراسلے کے مطابق نوٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ سرکاری گاڑیاں مختلف بااثر شخصیات کی غیر قانونی تحویل میں ہیں۔

مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ ممبر قانون ساز اسمبلی عاصم شریف بٹ فارچونر نمبر MDGA 038 اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں، جبکہ تقدیس گیلانی فارچونر نمبر MDDA 941 اور ٹویوٹا گرینڈی نمبر MDGD 555 استعمال کر رہی ہیں۔ اسی طرح ممبر اسمبلی جاوید بٹ فارچونر نمبر MDGC 555 اور محمد اکبر ابراہیم پراڈو نمبر MDGA 811 خلاف ضابطہ استعمال کر رہے ہیں۔

مراسلے کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ان گاڑیوں کی واپسی کے لیے نوٹس (عکسی انقول الف) بھی جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم تاحال یہ گاڑیاں محکمہ سروسز (سنٹرل ٹرانسپورٹ پول) کو واپس نہیں کی گئیں۔

اس صورتحال پر محتسب آزاد جموں و کشمیر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایکٹ 14 سال 1992 کی دفعہ 9(1) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی ہے کہ مذکورہ گاڑیاں پولیس کے ذریعے متعلقین سے واپس لے کر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹرییشن ڈیپارٹمنٹ (سنٹرل ٹرانسپورٹ پول) میں جمع کرائی جائیں اور ایک یوم کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

مزید پڑھیں: آصف زرداری کی زیرصدارت اہم اجلاس، آزاد کشمیر میں جیالا صدر لانے کا فیصلہ

یاد رہے کہ مذکورہ چاروں ممبران اسمبلی سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی کابینہ کا حصہ رہے ہیں۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور فیصل راٹھور کے دور کو 2 ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود سابق وزرا نے سرکاری گاڑیاں واپس نہیں کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ارکان اسمبلی آزاد کشمیر حکم خلاف ضابطہ گاڑیاں محتسب وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ارکان اسمبلی خلاف ضابطہ گاڑیاں وی نیوز خلاف ضابطہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع