دہشتگردی سے چھٹکارہ حاصل کرچکے، کچے کے ڈاکوؤں کا بھی خاتمہ کرینگے: وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک : سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا کہ دہشت گرد روزانہ کئی لوگوں کو شہید کر دیتے تھے، یہاں بم دھماکے ہوتے تھے، ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی لیکن ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کرچکے ہیں، کچے کے ڈاکوؤں کا بھی خاتمہ کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے پولیس ٹریننگ سعید آباد میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دہشت گردی اور جرائم کےخلاف سندھ پولیس نے بھرپور کارروائیاں کی ہیں، سندھ پولیس کے بہادر افسران و جوانوں کی وجہ سے صوبے میں امن قائم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ روزپہلے دادو میں تین بہادر سپاہیوں نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا، صوبے میں چند ماہ میں پولیس کے افسران و جوانوں نے بہادری کی شاندار مثال قائم کی، کراچی میں سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی علی رضا کو شہید کردیا گیا۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں جب کچھ سال پہلے دہشت گردوں نے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا تو کانسٹیبل شہید ہوئے، پچھلے سال جنوری سے دسمبر تک 1325 پولیس مقابلےہوئے، جن میں 207 ڈاکوؤں کو ہلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس سال یکم جنوری سے آج تک 115 پولیس مقابلے ہوئے جن میں27 ڈاکوؤں کو ہلاک کیاگیا اور 82 زخمی ہوئے، پولیس نے 81 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا اور 153 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ امیدکرتا ہوں کہ سندھ پولیس ایسے ہی بہادری سے کام کرتے ہوئے کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کرےگی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک وقت تھا کہ دہشت گرد روزانہ کئی لوگوں کو شہید کر دیتے تھے، یہاں بم دھماکے ہوتے تھے، ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی لیکن ہم دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کرچکے ہیں، بلوچستان اورخیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس، ہفتہ 14فروری 2026
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔