16 فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : مہنگائی کے ستائے عوام کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آ گئی ہے ۔ 16 فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق قیمتوں میں مجموعی طور پر 6 روپے 55 پیسے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے، جس سے عوامی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 39 پیسے فی لیٹر جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 40 پیسے فی لیٹر تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے 55 پیسے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) قیمتوں میں ردوبدل کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گی۔
بعد ازاں پیٹرولیم ڈویژن وزیراعظم سے منظوری حاصل کرنے کے بعد نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 فروری سے ہوگا۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب عوامی حلقوں نے مجوزہ اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے ریلیف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی قیمتوں میں پیسے فی لیٹر کی قیمت میں اضافے کا
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔