سونے کی قیمت مزید بڑھ گئی، فی تولہ 5 لاکھ 26 ہزار 962 روپے کا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 70 ڈالر اضافے کے بعد 5 ہزار 042 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی۔ عالمی سطح پر سونے کی بڑھتی ہوئی طلب اور معاشی غیر یقینی صورتحال کو قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ سونا 7 ہزار روپے مہنگا ہو کر 5 لاکھ 26 ہزار 962 روپے کی سطح پر پہنچ گیا جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 6 ہزار 001 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 51 ہزار 784 روپے ہو گئی۔
تاہم سونے کے برعکس چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ چاندی 105 روپے کمی کے بعد 8 ہزار 219 روپے پر آ گئی، جبکہ فی 10 گرام چاندی 90 روپے سستی ہو کر 7 ہزار 046 روپے کی سطح پر آگئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا تھا، تاہم آج کے اضافے نے مارکیٹ میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی مالیاتی حالات اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ آئندہ دنوں میں بھی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں سونے کی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔