ملکی 7ائرپورٹس سے سال بھر میں 2 کروڑ 68 لاکھ افراد نے سفر کیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260214-08-14
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاکھوں روپے ٹکٹ خرچ کرکے گھنٹوں طویل ترین قطاروں میں خوار ہونے ہاتھوں اور ٹرالیوں میں بھاری بھرکم سامان سمیت بچوں کو گود میں اٹھائے کھڑے رہنے کے باوجود 2 کروڑ 68 لاکھ 15 ہزار ملکی و غیر ملکی مسافروں نے لاہور، کراچی، اسلام آباد، ملتان سمیت 7 ائرپورٹس سے اندرون اور بیرون ممالک سفر کیا۔پروازوں کی آمد اور روانگی میں گھنٹوں کی تاخیر اور عین وقت پر پروازوں کی منسوخی جیسے مسائل بھی مسافروں نے برادشت کیے مگر لاہور، کراچی، اسلام آباد، ائرپورٹس سمیت دیگر ائرپورٹ پر سہولیات کا فقدان ہی نظر آیا۔ مسافروں کی سیکڑوں نہیں ہزاروں شکایات کے باوجود پاکستان ائرپورٹ اتھارٹی مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ میڈیا کو پاکستان ائرپورٹ اتھارٹی کے طرف سے ملنے والی معلومات کے مطابق گزشتہ برس علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ جناح انٹرنیشنل سمیت اسلام آباد پشاور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد، ائرپورٹ پر مسافروں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا رہا۔سب سے زیادہ سفر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ سے 85 لاکھ مسافروں نے بین الاقوامی اور اندرون ملک سفر کیا جس میں سے 40 لاکھ 37 ہزار بین الاقوامی اور40 لاکھ 13 ہزار اندرون ملک مسافروں نے سفر کیا۔ملتان سے 13 لاکھ 65 ہزار افراد نے بین الاقوامی اور 80ہزار مسافروں نے اندرون ملک سفر کیا۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ سے 68لاکھ 60ہزار مسافروں نے سفر کیا، جس میںانٹرنیشنل جانے والے 51 لاکھ 40 ہزار جبکہ اندرون ملک سفر کرنے والے 17 لاکھ 30 ہزار مسافر تھے۔اسلام آباد ائرپورٹ سے 78 لاکھ 70 ہزار مسافروں نے سفر کیا، جس میں سے انٹرنیشنل ائرپورٹ جانے والے 54 لاکھ 10 ہزار اور ڈومیسٹک24 لاکھ 6ہزار تھے۔ فیصل آباد ائرپورٹ سے4 لاکھ 70 ہزار مسافروں نے سفر کیا، جس میں انٹرنیشنل جانے والے 4 لاکھ20 ہزار جبکہ 50 ہزار ڈومیسٹک مسافر تھے۔ پشاور ائرپورٹ سے 12 لاکھ 90 ہزار مسافروں نے سفر کیا، جس میں انٹرنیشنل جانے والے مسافروں کی تعداد 10لاکھ 60ہزار رہی۔ کوئٹہ ائرپورٹ سے 3 لاکھ 75 ہزار مسافروں نے سفر کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار مسافروں نے سفر کیا انٹرنیشنل ائرپورٹ اسلام ا باد اندرون ملک ائرپورٹ سے جانے والے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔