ایس آئی ایف سی کی فعال سہولت کاری ،لائیو اسٹاک میں سنگِ میل
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی فعال سہولت کاری ،لائیو اسٹاک میں سنگِ میل WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2026 سب نیوز
(آئی پی ایس)اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل ادارہ جاتی ہم آہنگی، عالمی شراکت داری اور سرمایہ کار دوست ماحول کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل اور ترکی کے زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر کے درمیان زرعی و لائیوسٹاک تعاون پر مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ایس آئی ایف سی نے پاکستان اور ترکی کے درمیان اہم یادداشتوں کے معاہدے میں خصوصی سہولت فراہم کی۔معاہدے کے تحت زرعی تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون کا جامع فریم ورک تشکیل دیا گیا۔
دو طرفہ تعاون سے جدید کارپوریٹ لائیوسٹاک فارمنگ اور برآمدی ویلیو چین کی ترقی سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔پاکستان اور ترکی زرعی و لائیوسٹاک شعبہ میں ادارہ جاتی روابط، پرائیویٹ سیکٹر اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجماعت اسلامی بنگلادیش کا قومی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا اعلان جماعت اسلامی بنگلادیش کا قومی انتخابات کے نتائج قبول کرنے کا اعلان مہنگائی کےستائے عوام کےلیے بری خبر؛ 16 فروری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان عمران خان کی توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا معطل اور ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ پختونخوا جنسی زیادتی میں ملوث ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی، ممکنہ طورپرانکا گلادبایا گیا، ڈاکٹر کا دعویٰ عمران خان کی آنکھ کا سن کر بہت دکھ ہوا، دعا کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا: شاہ محمود قریشیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔