چین کے اے آئی ماڈلز نے عالمی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
چین قمری نئے سال اور اسپرنگ فیسٹیول کی آمد کے موقع پر عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ کارکردگی رکھنے والے مصنوعی ذہانت ماڈلز متعارف کرانے کی تیاری کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین مصنوعی ذہانت کے میدان میں امریکا کو پچھاڑنے کے لیے کوشاں
ایک سال قبل چینی اسٹارٹ اپ ڈیپ سیک نے اپنی R1 اور V3 سیریز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ہلچل مچا دی تھی، اور اب اس کی نیکسٹ جنریشن کا V4 ماڈل متوقع ہے۔ اس پیشرفت کے بعد دیگر چینی مصنوعی ذہانت کمپنیاں بھی اپنے جدید ماڈلز پیش کرنے کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں۔
ڈیپ سیکہانگژو میں قائم یہ مصنوعی ذہانت ریسرچ لیب اور اسٹارٹ اپ جولائی 2023 میں لیانگ وین فینگ نے قائم کیا تھا۔ ڈیپ سیک کا مصنوعی ذہانت اسسٹنٹ معیار اور کارکردگی کے لحاظ سے نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے اور کچھ عرصہ قبل ایپل اسٹور پر مفت ایپس کی فہرست میں سرفہرست بھی رہا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی قوم مصنوعی ذہانت پر امریکیوں کی نسبت زیادہ اعتماد کرتی ہے، سروے
حال ہی میں کمپنی نے اپنے معلوماتی دائرہ کار کو 128,000 ٹوکنز سے بڑھا کر 1 ملین ٹوکنز کردیا ہے، جس سے ماڈل کی یادداشت اور معلومات کو ایک ساتھ سمجھنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بائٹ ڈانسبائٹ ڈانس کا ویڈیو بنانے والا مصنوعی ذہانت ماڈل سی ڈانس 2.
ژھیپو اے آئی نے اوپن سورس ماڈل جاری کیا ہے جس میں بہتر کمپیوٹر پروگرامنگ کی صلاحیت اور طویل المدت کام انجام دینے کی خصوصیات شامل ہیں۔ کمپنی کو چین کے نمایاں مصنوعی ذہانت اداروں میں شمار کیا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق یہ ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہونے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔
ٹینسینٹٹینسینٹ کے ہنیوان یونٹ نے کم اسٹوریج استعمال کرنے والا کمپریسڈ ماڈل HY-1.8B-2Bit متعارف کرایا ہے جو موبائل فونز سمیت عام صارفین کے ہارڈویئر پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آئی فلائی ٹیکآئی فلائی ٹیک نے تصدیق کی ہے کہ وہ اسپارک ایکس 2 ماڈل جاری کرنے جارہا ہے جو مکمل طور پر چینی ساختہ چپس پر تربیت یافتہ ہوگا۔ اس اپ گریڈ سے تعلیم، صحت اور خودکار معاون ایپلی کیشنز میں عملی استعمال مزید آسان ہو جائے گا۔
نیٹ ایز یوڈاؤنیٹ ایز یوڈاؤ کا نیا سرچ انجن اور ذاتی معاون ڈیٹا تک رسائی، شیڈول بنانے اور ڈیٹا تجزیہ جیسے کام خودکار طریقے سے انجام دے سکتا ہے، جبکہ موبائل اور کمپیوٹر دونوں پلیٹ فارمز کو سپورٹ کرتا ہے۔
ڈیکسمالڈیکسمال نے ڈی ایم او نامی مصنوعی ذہانت ماڈل متعارف کرایا ہے جو روبوٹک آپریشنز، گاڑی چلانے، راستہ تلاش کرنے اور پیچیدہ مکینیکل کاموں کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور صنعتی و لاجسٹکس آٹومیشن میں اہم کردار ادا کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی فلائی ٹیک بائٹ ڈانس چین ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی فلائی ٹیک بائٹ ڈانس چین ڈیپ سیک مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت ڈیپ سیک کے لیے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔