ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 16 فروری کو ملک کے مغربی علاقوں میں ایک کمزور موسمی سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث مختلف شہروں میں بارش ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مزید بارشیں اور برفباری، محکمہ موسمیات نے نئی پیشگوئی کردی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 16 اور 17 فروری کے دوران کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین اور گردونواح کے علاقوں میں بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 17 فروری کو کراچی، گوادر، پسنی، حیدرآباد، ٹھٹہ اور سکھر میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق 16 فروری کی رات سے 17 فروری تک وزیرستان، بنوں اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بارش متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خون جما دینے والی سردی کا توڑ لاندی جو گھروں سے نکل کر ہوٹل تک پہنچ گئی
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس دوران ڈیرہ غازی خان اور شمالی بلوچستان کے بعض علاقوں میں ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ خراب موسم کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش بالائی علاقے بلوچستان پاکستان کراچی کوئٹہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالائی علاقے بلوچستان پاکستان کراچی کوئٹہ محکمہ موسمیات علاقوں میں امکان ہے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔