چیف جسٹس آف پاکستان نے فورٹ عباس میں قائم جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عدالتی امور اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ فیلڈ وزٹ کم وسائل والے اور دور دراز اضلاع میں انصاف کی فراہمی کو مؤثر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
اس سے قبل بھی عدالتی قیادت کی جانب سے گوادر، صادق آباد، گھوٹکی، بونی اور نگرپارکر جیسے علاقوں کے دورے کیے جا چکے ہیں تاکہ مقامی سطح پر درپیش مسائل کو براہِ راست دیکھا اور سنا جا سکے۔
دورے کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی ضمانتوں کی مؤثریت کسی جغرافیے کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر شہری کو یکساں اور بروقت انصاف ملنا چاہیے، چاہے وہ کسی بڑے شہر میں ہو یا کسی دور افتادہ علاقے میں۔
انہوں نے ایل جے سی پی کے چار ترجیحی اصلاحاتی منصوبے اگست 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ان منصوبوں میں عدالتوں کی سولرائزیشن، ای لائبریریز کا قیام، خواتین کے لیے علیحدہ سہولیات اور صاف پانی کے پلانٹس کی تنصیب شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاولنگر نے اس موقع پر ای لائبریری اور سولرائزیشن سہولت کا افتتاح کیا جبکہ ویمن بار روم کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ بار ممبران کے لیے علیحدہ ای لائبریری کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
چیف جسٹس نے ایک سول جج کی عدالت میں کارروائی دیکھی اور فورٹ عباس اور ملحقہ علاقوں میں تعینات ججز سے ملاقات کی۔ انہوں نے ججز کو ہدایت کی کہ وہ دیانت داری، پیشہ ورانہ کارکردگی اور سائلین کے ساتھ ہمدردانہ و حساس رویہ برقرار رکھیں۔ عدالت کے داخلی دروازے پر فیسلٹیشن سینٹر قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی تاکہ سائلین کو ابتدائی رہنمائی آسانی سے مل سکے۔
بار ممبران کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں مقامی وکلا نے درپیش مسائل اور تجاویز پیش کیں۔
چیف جسٹس نے مالی سال 2026-27 میں خواتین فیسلٹیشن سینٹرز کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ ان مراکز میں مفت قانونی معاونت، نفسیاتی و سماجی خدمات، مصالحتی سہولیات، فیملی وزٹیشن کی سہولت اور صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد کی معاونت فراہم کی جائے گی۔ بچوں کے تحفظ اور رہنمائی سے متعلق خدمات بھی ان مراکز کا حصہ ہوں گی۔
آخر میں چیف جسٹس نے عدالتی انفراسٹرکچر اور سروس گیپس کی باقاعدہ دستاویز سازی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات اسی وقت مؤثر ہوں گی جب مسائل کی درست نشاندہی اور ان کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیف جسٹس نے

پڑھیں:

سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری

بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
 سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
 سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔
 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ