چیف جسٹس آف پاکستان کا فورٹ عباس جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ، انصاف کی مقامی سطح پر بہتری پر زور
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
چیف جسٹس آف پاکستان نے فورٹ عباس میں قائم جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے عدالتی امور اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ فیلڈ وزٹ کم وسائل والے اور دور دراز اضلاع میں انصاف کی فراہمی کو مؤثر بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
اس سے قبل بھی عدالتی قیادت کی جانب سے گوادر، صادق آباد، گھوٹکی، بونی اور نگرپارکر جیسے علاقوں کے دورے کیے جا چکے ہیں تاکہ مقامی سطح پر درپیش مسائل کو براہِ راست دیکھا اور سنا جا سکے۔
دورے کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی ضمانتوں کی مؤثریت کسی جغرافیے کی محتاج نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ہر شہری کو یکساں اور بروقت انصاف ملنا چاہیے، چاہے وہ کسی بڑے شہر میں ہو یا کسی دور افتادہ علاقے میں۔
انہوں نے ایل جے سی پی کے چار ترجیحی اصلاحاتی منصوبے اگست 2026 کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ان منصوبوں میں عدالتوں کی سولرائزیشن، ای لائبریریز کا قیام، خواتین کے لیے علیحدہ سہولیات اور صاف پانی کے پلانٹس کی تنصیب شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بہاولنگر نے اس موقع پر ای لائبریری اور سولرائزیشن سہولت کا افتتاح کیا جبکہ ویمن بار روم کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ بار ممبران کے لیے علیحدہ ای لائبریری کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔
چیف جسٹس نے ایک سول جج کی عدالت میں کارروائی دیکھی اور فورٹ عباس اور ملحقہ علاقوں میں تعینات ججز سے ملاقات کی۔ انہوں نے ججز کو ہدایت کی کہ وہ دیانت داری، پیشہ ورانہ کارکردگی اور سائلین کے ساتھ ہمدردانہ و حساس رویہ برقرار رکھیں۔ عدالت کے داخلی دروازے پر فیسلٹیشن سینٹر قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور لائی گئی تاکہ سائلین کو ابتدائی رہنمائی آسانی سے مل سکے۔
بار ممبران کے ساتھ ایک انٹرایکٹو سیشن بھی منعقد کیا گیا، جس میں مقامی وکلا نے درپیش مسائل اور تجاویز پیش کیں۔
چیف جسٹس نے مالی سال 2026-27 میں خواتین فیسلٹیشن سینٹرز کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ ان مراکز میں مفت قانونی معاونت، نفسیاتی و سماجی خدمات، مصالحتی سہولیات، فیملی وزٹیشن کی سہولت اور صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد کی معاونت فراہم کی جائے گی۔ بچوں کے تحفظ اور رہنمائی سے متعلق خدمات بھی ان مراکز کا حصہ ہوں گی۔
آخر میں چیف جسٹس نے عدالتی انفراسٹرکچر اور سروس گیپس کی باقاعدہ دستاویز سازی کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات اسی وقت مؤثر ہوں گی جب مسائل کی درست نشاندہی اور ان کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیف جسٹس نے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز