'علاج ان کا بنیادی حق ہے'، شاہد آفریدی کا عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر بیان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خاں کی صحت سے متعلق معاملات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دورہ بحرین پر موجود شاہد آفریدی سے سوال پوچھا گیاکہ آج کل عمران خان کی صحت سے متعلق میڈیا پر کافی بات ہورہی ہے تو آپ اس پر کیا کہنا چاہیں گے؟
حس پر شاہدآفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ علاج عمران خان کا بنیادی حق ہے ، وہ یا ان کی فیملی جہاں بہتر سمجھیں وہاں ان کا علاج ہونا چاہیے۔
بلال صدیق کمیانہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں افسران کو اہم ہدایات
#Pakistan's star cricketer @SAfridiOfficial says former PM @ImranKhanPTI's health and treatment is his basic right and should be provisioned, he met the Bahrain's Sheikh Nasser on ways to develop cricket in Bahrain.
واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مطالبہ اور نکتہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت ہے۔
قومی اسمبلی کے باہر عمران خان کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دیے گئے دھرنے میں جیوز نیوز سے بات کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ کے مطابق عمران خان کی بینائی 80 فیصد سے زائد ختم ہو گئی ہے۔
آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس، ہفتہ 14فروری 2026
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے کسی اسپتال منتقل کیا جائے۔
Ansa Awais Content Writer
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: عمران خان کی کی صحت
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔