عمران خان کی آنکھ کا علاج جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ معاملہ شفاف اور قانونی دائرے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا بیٹیوں سے ٹیلیفونک رابطہ، 20منٹ تک بات چیت ہوئی،علیمہ خان نے تصدیق کر دی
وفاقی وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔
یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ان کے بیٹوں سے فون پر بات کروائی گئی ہے، علیمہ خان نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان نے اپنے بیٹوں سے 20 منٹ بات کی۔
Pursuant to ongoing eye treatment of Imran Khan; further check up and treatment will be done in a specialised medical facility by best eye specialists.
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) February 14, 2026
سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی سے عمران خان کی فون پر بیٹوں قاسم اور سلمان سے بات کروانے کا حکم دیا تھا، اب ہم تصدیق کررہے ہیں کہ عمران خان سے بیٹوں کی فون پر بات کروا دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق کرکٹرز کا عمران خان کی صحت پر اظہارِ تشویش، بہترین علاج کی فراہمی کا مطالبہ
علیمہ خان کے مطابق عمران خان تقریباً 20 منٹ تک اپنے بچوں سے بات کرسکے۔ ان کے بیٹوں نے بتایا کہ اتنے عرصے بعد والد کی آواز سن کر عمران خان بے حد خوش ہوئے۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز ہر ممکن کوشش کریں گے کہ عمران خان کی بینائی بحال ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی سزا معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
علیمہ خانم نے خبردار کیا کہ بروقت علاج میں تاخیر پہلے ہی عمران خان کی بینائی کو نقصان پہنچا چکی ہے اور مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کی فوری دیکھ بھال ناگزیر ہے تاکہ مستقل بینائی کے نقصان سے بچا جاسکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کو ان کی صحت کے حق کے مطابق ہر ممکن طبی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپتال آنکھ عطاتارڑ عمران خان ماہر امراض چشم معائنہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپتال ا نکھ عطاتارڑ ماہر امراض چشم کہ عمران خان عمران خان کی علیمہ خان
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔