ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اے میچ سے ایک روز قبل پاکستان اور بھارت کے کپتانوں نے پریس کانفرنسز کے دوران مقابلے سے قبل ہاتھ ملانے کے امکانات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستانی کپتان سلمان علی آغا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ میچ کا دباؤ ہمیشہ زیادہ محسوس ہوتا ہے لیکن کھیل کو اس کے اصل جذبے کے ساتھ کھیلا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں کرکٹ کے مقابلے اکثر سیاسی ماحول سے متاثر ہوتے ہیں جبکہ ان کا مقصد کھیل کو اس کی اصل روح میں رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت دنگل، ماضی کا ریکارڈ کس کے حق میں؟

جب انہیں پوچھا گیا کہ اگر بھارتی کھلاڑی ہاتھ ملانے کے لیے آئیں تو وہ کیا کریں گے تو سلمان علی آغا نے محتاط جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’کل دیکھیں کیا ہوتا ہے‘۔

یعنی وہ کھیل کی روح کے مطابق ہینڈشیک کے لیے دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی فیصلہ نہیں کیا۔

سلمان علی آغا نے مزید کہا کہ ٹیم نے مقامی حالات کے مطابق تیاری کر لی ہے، پچ کی معلومات حاصل کی ہیں اور میچ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

بھارتی کپتان سوریا کمار یادو

بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ میچ کی تیاری شیڈول کے مطابق کر رہے ہیں اور اچھی کرکٹ کھیلنے کے لیے آئے ہیں۔

مزید پڑھیے: پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرا، کیا شاہین شاہ کو باہر بٹھایا جائےگا؟

ہاتھ ملانے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کر لیں، کل دیکھیں کیا ہوتا ہے‘۔

سوریا کمار یادیو نے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی تعریف بھی کی اور کہا کہ پاکستان نے ایشیا کپ میں اچھی کارکردگی دکھائی اور یہاں بھی اچھا کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے پاک بھارت میچ کے دباؤ کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اعصاب پر قابو پا کر اچھی کرکٹ کھیلنا سب سے اہم ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: پاک بھارت میچ کی تمام سیٹیں بُک، ٹکٹ بلیک میں 4 گنا قیمت پر فروخت

سوریا کمار یادو نے بتایا کہ پاک بھارت میچ کی تیاری شیڈول کے مطابق کی جا رہی ہے اور یہ صرف ایک کھیل ہے اس لیے کم کھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میچ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی۔

بھارتی کپتان نے پاکستان کے اسپنرز کی بھی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے پلان کے مطابق اچھا کھیل پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ: محسن نقوی کا پاک بھارت میچ دیکھنے کے لیے سری لنکا جانے کا امکان

واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کل کولمبو میں آمنے سامنے ہوں گی۔ گروپ اے میں دونوں ٹیمیں اب تک اپنے 2،2 میچز کھیل چکی ہیں اور دونوں میں ہی کامیابی حاصل کیل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بھارت مصافحہ پاک بھارت میچ ٹی 20 ورلڈ کپ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاک بھارت پہلا میچ سلمان علی آغا سوریا کمار یادو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت مصافحہ پاک بھارت میچ ٹی 20 ورلڈ کپ سلمان علی ا غا سوریا کمار یادو سوریا کمار یادو سلمان علی ا غا پاک بھارت میچ ٹی 20 ورلڈ کپ نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی