عمران خان اور بشریٰ بی بی کا طبی اور قانونی بنیادوں پر توشہ خانہ2 کی سزائیں معطل کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ؒاسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیرِاعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو (بلغاری جیولری) کیس میں سنائی گئی سزاؤں کی معطلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں قانونی سقم موجود ہیں جبکہ عمران خان کو درپیش سنگین طبی مسائل بھی سزا کی معطلی کے متقاضی ہیں۔
درخواست ایڈووکیٹ سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر سلمان صفدر، گوہر علی خان اور قوسین فیصل مفتی کے ہمراہ دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ فوجداری اپیل کے حتمی فیصلے تک سزا معطل کر کے درخواست گزاروں کو رہا کیا جائے۔ یاد رہے کہ 20 دسمبر 2025 کو اسپیشل کورٹ نے دونوں کو 10 سال قید اور ایک کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت مزید 7 سال قید بھی دی گئی تھی۔
بارش پاک بھارت ٹاکرے کا مزہ خراب نہیں کرے گی بلکہ اسے مزید سنسنی خیز بنا دے گی،ٹیسٹ کرکٹر عامر سہیل
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ایک ہی مبینہ فعل پر دو مختلف قوانین کے تحت سزا دینا جنرل کلازز ایکٹ 1897 کے منافی ہے، لہٰذا بیک وقت دونوں دفعات کے تحت سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کو “سرکاری ملازم” قرار دے کر قانونی غلطی کی کیونکہ منتخب عوامی عہدیدار اس تعریف میں شامل نہیں ہوتے۔درخواست میں طبی بنیادوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ مؤقف کے مطابق سپریم کورٹ میں 10 فروری 2025 کو پیش کی گئی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ خون جمنے کے باعث عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے اور جیل میں مناسب علاج ممکن نہیں۔ اس بنا پر عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ انسانی ہمدردی اور انصاف کے تقاضوں کے تحت سزا معطل کی جائے۔
آئندہ 5 سال میں 10 لاکھ نوجوانوں کی سکلزکو اپ گریڈ کریں گے،شزا فاطمہ
درخواست گزاروں نے استغاثہ کے بعض گواہوں کے کردار پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ وعدہ معاف گواہ بنانے کے لیے ضابطہ فوجداری کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے جبکہ ایک اہم شریکِ معاملہ کو ملزم بنانے کے بجائے بطور استغاثہ گواہ پیش کیا گیا جو بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دورانِ ٹرائل دونوں ملزمان ضمانت پر رہے اور عدالت کی عائد کردہ تمام شرائط کی پابندی کی۔ساتھ ہی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس کی جلد سماعت کے لیے بھی علیحدہ درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: درخواست میں گیا ہے کہ کی گئی کے تحت کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔