ابرار الحق کی خاتون صحافی سے بحث، ڈونیشن تنازع پر ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سیاست سے کچھ عرصہ قبل کنارہ کش ہونے والے گلوکار ابرار الحق ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ خاتون صحافی سفینہ خان کے ساتھ ڈونیشن کے معاملے پر بحث کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابرار الحق صحافی سے بار بار اس وائرل ویڈیو کے حوالے سے طعنہ دے رہے ہیں۔ سفینہ خان نے کہا کہ وہ اس کنسرٹ میں موجود ہی نہیں تھیں، بلکہ ویڈیو ان کے لوگوں نے وائرل کی تھی، لیکن ابرار الحق بات سننے کے لیے تیار نہیں تھے۔
گلوکار نے اس موقع پر سفینہ خان سمیت دیگر صحافیوں کو ن لیگ کے حامی قرار دیتے ہوئے ڈونیشن کے معاملے کی وضاحت بھی دی۔ ابرار الحق نے کہا: “میں نے اپنی جیب سے زمین خرید کر اسپتال بنایا اور لوگوں نے ڈونیشن دی۔ جو ویڈیو وائرل ہوئی، اس میں دکھایا گیا پیسہ اسپتال کے لیے تھا۔ اُس وقت میں بینک جا کر فوری جمع نہیں کرا سکتا تھا، اس لیے پیسے اپنی جیب میں رکھے۔”
ابرار الحق کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر مختلف کیپشنز کے ساتھ شیئر کی جا رہی ہے۔ کچھ مداح ان کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر صارفین نے اسے “انا کا مسئلہ” قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ابرار الحق
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔