آل سبجیکٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کی اسٹیم ایکسپو2026 میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ال سبجیکٹس ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے قائدین اور اراکینِ کور کمیٹی کے وفود نے ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت منعقدہ اسٹیم ایکسپو 2026 میں بھرپور شرکت کی۔ اسٹیم ایکسپو 2026 میں سیکڑوں کی تعداد میں اسٹالز اور پروجیکٹس ایکسپو میں شامل ہیں،
چیئرمین غلام حسین سہو نے اسٹا کی مرکزی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ ان کا کردار اسٹیم ایکسپو کو کامیاب بنانے میں بہت اہم رہا۔ انہوں نے ایسوسی ایشن کے کردار کی تعریف کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر سرپرست اعلی ڈاکٹر سعید احمد صدیقی، صدر افتاب احمد، سینیئر نائب صدر مجاہد پرویز، نائب صدر میل غلام رسول راجپر، نائب صدر فی میل غزالہ یاسمین، جنرل سیکرٹری لالہ بشیر احمد پٹھان، ڈپٹی جنرل سیکرٹری محسن علی قریشی، سیکرٹری بورڈ افیئرز پروفیسر ولید یمنی، جوائنٹ سیکرٹری میل ناصر روف خان، جوائنٹ سیکرٹری فیمیل وقار النساء، میڈیا کوارڈینیٹر ذیشان عثمانی، فائننس سیکرٹری ڈاکٹر بہزاد اختر، رابطہ سیکرٹری ضیاء الدین سومرو، آفس سیکرٹری حسین رضا، اراکین کور کمیٹی طاہر حسین غوری، عدنان حیات اور محترمہ نوشین صاحبہ نے بھرپور شرکت کی اور طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیم ایکسپو
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔