ہمیں وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، "وندے ماترم" تنازعہ پر اسدالدین اویسی کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ کے مطابق ملک کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا جائے اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے "وندے ماترم" تنازعہ، پارلیمانی سیاست اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ نیوز ایجنسی "اے این آئی" کو دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے وفاداری کا سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وندے ماترم تنازعہ پر بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت کا آئین "ہم بھارت کے لوگ" کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص نعرے سے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسدالدین اویسی نے واضح کیا کہ حب الوطنی کا تعلق کسی مخصوص نعرے یا عمل سے نہیں بلکہ آئین کی پاسداری سے ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو بھارت کا سیکولر کردار متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہے اور اس کی اصل طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی تنوع میں ہے۔
پارلیمانی امور پر بات کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ پارلیمنٹ اسپیکر کے خلاف پیش کئے گئے عدم اعتماد کی تحریک سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ان سے اس سلسلے میں مشورہ کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی دستاویز پر دستخط کئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے خلاف پیش کیے گئے استحقاق کی تحریک کا بھی کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔ آسام کے وزیراعلیٰ کے ایک مبینہ ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا کہ عوامی عہدے پر فائز افراد کو ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات یا اقدامات معاشرے میں غلط پیغام دیتے ہیں اور اس سے عوام کے درمیان تقسیم پیدا ہو سکتی ہے۔
بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے اسدالدین اویسی نے کہا کہ انہیں اب بھی اس فیصلے سے اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ ایک اہم ادارہ ہے، لیکن اختلاف رائے جمہوری عمل کا حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے بیان پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاسی لیڈروں کو ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیئے۔ اسد الدین اویسی کے مطابق ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلا جائے اور آئینی اصولوں کا احترام کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔(جاری ہے)
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔