عمران خان کا چھپ کر علاج کرانا قبول نہیں، علیمہ خان کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور : علیمہ خان نے عمران خان کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے، عمران کان کی آنکھ کا چھپ کر علاج کروانا ہرگز قابل قبول نہیں۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تفصیلات اس وقت معلوم ہوئیں جب سلمان صفدر کو سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا۔ اس دوران معلوم ہوا کہ عمران خان 3 ماہ سے دھندلا دیکھ رہے ہیں، جبکہ صحت کے اعتبار سے وہ فٹ ہیں۔
علیمہ خان نے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھ سے پانی بہہ رہا تھا ، انہیں صرف آئی ڈراپ دی گئی، جو ناکافی اقدام تھا۔ انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ غفور انجم اور متعلقہ ڈاکٹرز پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آنکھ کا علاج نہ کروانا ایک سنگین غفلت ہے اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔
علیمہ خان نے خبردار کیا کہ عمران خان کے ذاتی معالج کی موجودگی کے بغیر علاج کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کے پی کے کے تمام ایم این اے، محمود اچکزئی اور ناصر عباس نقوی کے احتجاج پر شکریہ ادا کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ کے پی کے بند ہونے کی صورت میں صبر اور تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ مطالبات کو پورا کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کو اطلاع ملی تھی کہ اسپتال میں علاج کیا جائے گا، مگر ذاتی ڈاکٹر اور فیملی کے افراد موجود نہیں ہوں گے، جو انہیں ہرگز قبول نہیں ہے۔
علیمہ خان نے واضح کیا کہ عمران خان کا علاج مکمل اور شفاف ہونا چاہیے، اور کسی بھی رپورٹ پر اعتماد نہیں کیا جائے گا جب تک فیملی کی تصدیق نہ ہو۔
قبل ازیں انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں 5 اکتوبر کے واقعے میں پولیس پر مبینہ تشدد اور سڑک بلاک کرنے کے مقدمے میں علیمہ خان کی عبوری ضمانت 13 مارچ تک توسیع کر دی گئی ہے۔
آج کی سماعت میں علیمہ خان نے خود عدالت میں حاضری مکمل کروائی۔ یہ کیس تھانہ شفیق آباد میں درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے قبول نہیں انہوں نے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.