عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
عمران خان کی صحت پر سیاست کروں گا نہ کسی کو کرنے دوں گا، وزیراعلیٰ پختونخوا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 February, 2026 سب نیوز
پشاور:(آئی پی ایس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر خود سیاست کروں گا اور نہ کسی کو کرنے دوں گا۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم (ایکس )پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے پاکستانیوں! عمران خان صاحب کی صحت میرے لیے سیاست سے بڑھ کر ہے۔ اُن کی صحت پر نہ میں خود سیاست کروں گا اور نہ ہی کسی کو کرنے دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم میں عمران خان صاحب کے لیے بے انتہا محبت کی وجہ سے جو اس وقت غم اور غصہ پایا جا رہا ہے اُس کا مُجھے بخوبی احساس ہے، لیکن اس کو ہم نے اپنی کمزوری نہیں اپنی طاقت بنانا ہے۔ ہمیشہ سخت اور نازک وقت میں آپ کو اعصاب مضبوط رکھ کر حکمت سے جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ ایسے وقت میں آپ کی پوشیدہ حکمت عملی ہی آپ کی بہترین طاقت ہوتی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان صاحب کوئی معمولی شخص نہیں وہ پاکستان کا سابقہ اور موجودہ وزیر اعظم ہے اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے تاحیات چیئرمین ہے۔ اُن کی صحت کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے جو ناقابل معافی فعل ہے۔ اب اس وقت اُن کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ کوئی ہرگز یہ نہ سوچے کہ میں عمران خان صاحب کے علاج تک آرام سے بیٹھوں گا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ اس وقت جو ورکرز بغیر کسی آفیشل کال کے اپنی مدد آپ کے تحت نکلے ہیں تو جہاں پر ہیں وہیں پُرامن رہیں اور نزدیکی ورکرز اُن کا ساتھ دیں۔ آپ سب نے آگے بھی پُرامن رہنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب کے مخالف جنہوں نے اُن کے ساتھ طبی دہشتگردی کی ہے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ہم میں اپنے انتشاری لوگ شامل کر کے ہمارے پُرامن احتجاج کو کسی دوسری طرف لے جا کر ہمیں ہی نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تمام انتشاری لوگوں پر نظر رکھنی ہے اور پُرامن احتجاج جاری رکھنا ہے۔ کسی بھی منفی اور جھوٹے پروپیگنڈے پر یقین نہیں کرنا جب تک عمران خان صاحب کی فیملی اور جماعت کسی بھی خبر کی تصدیق نہ کرے۔
سہیل آفریدی نے ٹوئٹ میں کہا کہ تمام پاکستانیوں کو میں یہ اعتماد دلاتا ہوں کہ ان شا اللہ آپ سب کے اعتماد، اتفاق و اتحاد اور سپورٹ سے عمران خان صاحب کا علاج ذاتی معالج کی نگرانی میں اور فیملی کو اعتماد میں لے کر جلد از جلد ہوگا۔ یہ آپ سب کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ عمران خان صاحب کی آنکھ کے علاج کے ساتھ ساتھ ہم نے اُن کی سیکیورٹی کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کچھ چیزیں بتا کر کی جائیں گی اور کچھ چیزیں شاید فی الحال ہمارے سامنے نہ آئیں۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کا علاج 16 فروری تک ہوجانا چاہیے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنسی زیادتی میں ملوث ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی، ممکنہ طورپرانکا گلادبایا گیا، ڈاکٹر کا دعویٰ جنسی زیادتی میں ملوث ایپسٹین نے خودکشی نہیں کی، ممکنہ طورپرانکا گلادبایا گیا، ڈاکٹر کا دعویٰ بجلی کی قیمتوں میں تبدیلی کا بوجھ کم آمدنی والے پاکستانیوں پر نہ ڈالے: آئی ایم ایف سری لنکا کے 78ویں یومِ آزادی پر اسلام آباد میں شاندار استقبالیہ، وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ مہمانِ خصوصی امریکا کا ایران پر دباؤ بڑھانے کیلیے مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑہ تعینات کرنےکا اعلان سپریم کورٹ میں عمران خان کے 6، بشری بی بی اور شاہ محمود قریشی کا ایک ایک کیس سماعت کیلئے مقرر راولپنڈی کے 22فیڈرز پراتوار کو بجلی کی فراہمی صبح سات بجے سے شام 6بجے تک معطل رہے گی ،آئیسکونے شیڈول جاری کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کسی کو کرنے دوں گا سیاست کروں گا کی صحت پر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔