چیئرمین پی سی بی محسن نقوی پاک بھارت میچ دیکھنے کیلیے سری لنکا پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
ایئرپورٹ پر سری لنکا کے نائب وزیر برائے پورٹس و ایوی ایشن جنیتھیا راون کوڈ یتھوواکو نے معزز مہمان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر سری لنکا میں پاکستان کے ہائی کمشنر میجر جنرل (ر) فہیم العزیز بھی موجود تھے۔
کولمبو آمد کے بعد محسن نقوی اور سری لنکن وزیر کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور کرکٹ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سری لنکن وزیر نے کولمبو آمد پر محسن نقوی کو ویلکم کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی سری لنکا آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت ہے۔واضح رہے کہ سری لنکا میں کل بروز اتوار 15 فروری کو ہائی وولٹیج ٹاکرا ہوگا جس کے لیے قومی کرکٹ ٹیم پہلے سے تیارہے۔
مزید پڑھیںٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پی سی بی سربراہ پاک بھارت میچ دیکھنے کیلیے سری لنکا روانہ
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: شاناکا کی ریکارڈ ساز اننگز، سری لنکا نے عمان کو 105 رنز سے شکست دے دی
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان سری لنکا کے ساتھ بہترین تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیل رہا ہے اور سری لنکا ہمارا میزبان ہے، ہم اپنے میزبان کی عزت و احترام کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔
چیئرمین پی سی بی کے ہمراہ چیف آپریٹنگ آفیسر پی سی بی سمیر احمد، چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایل سلمان نصیر اور ڈائریکٹر میڈیا پی سی بی عامر میر بھی کولمبو پہنچے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محسن نقوی سری لنکا پی سی بی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :