مودی حکومت کے وزیر کا جیفری ایپسٹین سے روابط کے معاملے پر استعفٰی دینا چاہیئے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پون کھیڑا نے کہا کہ ہردیپ سنگھ پوری کے حالیہ انٹرویوز متضاد اور گمراہ کن ہیں، وزیر نے کہا کہ "اگر کچھ ہوا ہوتا تو میں بتا دیتا" جسے پون کھیڑا نے "حیران کن ذہنیت" قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے مودی حکومت کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین سے روابط کے معاملے پر وہ "اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اہل نہیں" ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں وزیر نے "صرف جھوٹ بولا" ہے اور کانگریس اس معاملے کو عوام کے سامنے اٹھائے گی۔ پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ہردیپ سنگھ پوری کے حالیہ انٹرویوز متضاد اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر نے کہا کہ "اگر کچھ ہوا ہوتا تو میں بتا دیتا" جسے پون کھیڑا نے "حیران کن ذہنیت" قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین فائلز سے متعلق تنازع میں کئی ممالک کے رہنماؤں نے استعفے دئے ہیں اور اس معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی اور ہردیپ سنگھ پوری کے نام بھی زیر بحث آئے ہیں۔ پون کھیڑا نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ ہردیپ سنگھ پوری کی ایپسٹین سے صرف ایک ملاقات ہوئی، بلکہ متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے وزیر کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں کہا گیا تھا کہ ملاقات کے مقام کا انہیں علم نہیں تھا کیونکہ ڈرائیور لے جا رہا تھا اور راستے میں انہوں نے انٹرنیٹ پر معلومات تلاش کیں۔ پون کھیڑا نے سوال کیا کہ کیا اس وقت وزیر کم عمر تھے کہ انہیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہ تھا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ 2008ء میں عدالت میں اعتراف جرم کے باوجود 2014ء میں بھی وزیر کو ایپسٹین کے مجرمانہ ریکارڈ پر "شکوک" تھے، جو ان کے بقول اخلاقی معیار پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ نومبر 2014ء میں ایپسٹین نے ایک ای میل کے ذریعے "ڈیجیٹل انڈیا" سے متعلق معلومات شیئر کیں، حالانکہ اس مہم کا باضابطہ آغاز جولائی 2015ء میں ہوا اور پوچھا کہ کیا اس سے پہلے معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ پون کھیڑا نے خارجہ پالیسی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ بعض علاقائی فیصلوں پر ایپسٹین کے اثر و رسوخ کی باتیں سامنے آئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہردیپ سنگھ پوری پون کھیڑا نے نے کہا کہ انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔