ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر مینڈلسن کو امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی نے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے مبینہ روابط کے سلسلے میں انٹرویو دینے اور سوالات کے جواب جمع کرانے کے لیے کہا ہے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کی ہاؤس اوورسائیٹ کمیٹی کے ارکان رابرٹ گارسیا اور سُہاس سبرا منیم کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ بات واضح ہے کہ مینڈلسن کے ایپسٹین کے ساتھ وسیع سماجی اور کاروباری روابط تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیٹی کے روبرو تحریری ریکارڈ کے لیے انٹرویو دینے کو خود پیش کریں۔
خط میں کہا گیا کہ کمیٹی ایپسٹین کے ممکنہ ساتھیوں اور معاونین کی شناخت اور اس کے مجرمانہ نیٹ ورک کی مکمل نوعیت کو بے نقاب کرنا چاہتی ہے، ارکانِ کانگریس کے مطابق متعدد شواہد سامنے آئے ہیں جو کئی برسوں تک مینڈلسن اور ایپسٹین کے قریبی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
We know that former British Ambassador to the U.
Read the… pic.twitter.com/uKqm8l3j20
— Oversight Dems (@OversightDems) February 13, 2026
اگرچہ کمیٹی کے پاس مینڈلسن کو زبردستی طلب کرنے کا اختیار نہیں، تاہم اس نے ان سے تعاون کی توقع ظاہر کرتے ہوئے 27 فروری تک جواب دینے کی مہلت دی ہے۔
مینڈلسن فروری 2025 میں امریکا میں برطانیہ کے سفیر مقرر ہوئے تھے، تاہم ستمبر میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کا کہنا تھا کہ ایپسٹین سے ان کے تعلقات کی گہرائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
بعد ازاں مینڈلسن نے لیبر پارٹی اور ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا۔
اس تنازع نے برطانوی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے اور ناقدین نے کیئر اسٹارمر کی سیاسی بصیرت پر سوال اٹھاتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے، کیونکہ امریکا میں برطانوی سفارت کاری کا عہدہ سب سے باوقار تصور کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین فائلز میں نام آنے پر اہم برطانوی سیاستدان پارٹی رکنیت سے مستعفی
اگرچہ اسٹارمر فی الحال اپنے عہدے پر برقرار ہیں، لیکن بحران کی بازگشت ان کے قریبی حلقے تک پہنچ چکی ہے۔
اسکینڈل کے باعث اسٹارمر کے 3 سینیئر معاونین بھی مستعفی ہو چکے ہیں، کابینہ سیکریٹری کرس وورمالڈ نے جمعرات کو استعفیٰ دیا، جبکہ چیف آف اسٹاف مورگن میک سوینی اور کمیونیکیشن ڈائریکٹر ٹم ایلین بھی اپنے عہدوں سے الگ ہو گئے۔
دوسری جانب مینڈلسن نے ایپسٹین سے تعلقات کے حوالے سے کسی بھی مجرمانہ عمل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، تاہم امریکی تحقیقات اور برطانیہ میں سیاسی دباؤ کے باعث یہ معاملہ بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی کانگریس پیٹر مینڈلسن چیف آف اسٹاف کرس وورمالڈ کیئر اسٹارمر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی کانگریس پیٹر مینڈلسن چیف آف اسٹاف کیئر اسٹارمر
پڑھیں:
آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام
یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔
ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ
ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان