خوش آمدید رمضان؛ برقی قمقموں سے سجاوٹ؛ گلیاں سج گئیں؛ سعودی عرب کا بڑا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سعودی عرب میں رمضان المبارک 1447 ہجری کے مقدس مہینے کے استقبال کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق حکومتی سطح پر استقبال رمضان کی تیاریاں عروج پر ہیں جب کہ اللہ کے مہمانوں کو خوش آمدید اور شاندار میزبانی کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی۔
گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی رمضان کے شایان شان استقبال کے لیے اھلاً و سہلاً یا رمضان المبارک کے بینرز جگہ جگہ آویزاں کردیئے گئے۔
سعودی عرب کی شاہراؤں اور گلی محلوں کو بھی برقی قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ قرآن پاک کی مقدس آیتوں اور احادیث مبارکہ سے سجے بل بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔
رمضان کے مقدس ساعتوں سے لمحہ لمحی نیکی بٹورنے کے سنہری مواقعوں سے مستفید ہونے کے لیے متعدد اصلاحی اور تبلیغی پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں۔
ماہ مقدس میں افطار کروانا بھی بڑی نیکی ہے جس کے لیے بڑے بڑے افطار اجتماعات میں منعقد کیے جائیں گے۔
سب سے زیاد رونقین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دیکھنے میں آرہی ہیں جہاں شاہراہیں، گلیاں اور اہم مقامات کو رنگ برنگے قمقموں اور فانوس سے سجایا گیا ہے۔
دنیا بھر سے مسلمان عمرہ ادائیگی اور عبادات کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینی منور کا رخ کریں گے۔ اللہ کے مہمانوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔
ماہِ شعبان کے آخری جمعے پر مسجد الحرام میں تقریباً 15 لاکھ سے زائد زائرین نے شرکت کی، جو رمضان کی آمد کی توقعات اور استعدادِ زائرین میں اضافے کا مظہر ہے۔
رمضان المبارک میں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا قوی امکان ہے۔ آخری عشرے میں تو گویا حج کا سا گماں ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب سمیت متعدد اسلامی ممالک میں رمضان کا آغاز 19 فروری سے ہونے کا قومی امکان ہے تاہم حتمی اعلان چاند نظر آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔