وزیرِ اعظم شہباز شریف نے رمضان ریلیف پیکیج کا اجراء کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکیج کا اجراء کر دیا۔
رمضان ریلیف پیکیج کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پچھلے سال رمضان میں مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رقم فراہم کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا ہے کہ پچھلے سال رقم 20 ارب روپے مختص کی گئی تھی، اس سال رمضان پیکیج کے تحت 38 ارب روپے مقرر کیے ہیں، مستحقین کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے گرانفروشوں، ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کیا جائے، چیف سیکرٹری 15 فروری سے رمضان ماڈل اور سہولت بازار فنکشنل ہوں گے، سلمی بٹوزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں رقم شفاف نظام کے ذریعے تقسیم ہو گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری بی آئی ایس پی نے کہا کہ پیکیج کا مقصد مستحق افراد کو باعزت ریلیف فراہم کرنا ہے، مستحق افراد کو رقوم بینکوں کے ذریعے براہِ راست فراہم کی جائیں گی۔
سیکریٹری بی آئی ایس پی کا کہنا ہے کہ وزراء پر مشتمل کمیٹی رمضان پیکیج کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی اور وزیرِ اعظم خود رقم کی ادائیگی کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔