خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں ہوگی، شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے ضمانت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی کوریا نے جنوبی کوریا سے خود مختاری کی خلاف ورزی نہ کرنے کی ضمانت مانگ لی۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جن سے اس کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکا جا سکے، جیسا کہ رواں سال کے آغاز میں ڈرون کی دراندازی کے واقعے میں ہوا تھا۔
مرکزی کمیٹی کی نائب شعبہ ڈائریکٹر کم یو جونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا کے وزیر برائے اتحاد جونگ ٹونگ یونگ نے منگل کو سال کے آغاز میں پیش آنے والے ڈرون دراندازی کے واقعے پر باضابطہ طور پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
کم یو جونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا کی حکومت کو محض افسوس کے اظہار سے بحران کو دبانے کی کوشش کرنے کی بجائے ایسے ٹھوس اور احتیاطی اقدامات کرنے چاہئیں جو اس بات کی یقینی ضمانت دیں کہ ہماری ریاست کی فضائی حدود کی خلاف ورزی جیسے سنگین اقدام دوبارہ کبھی نہ ہوں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کی ناقابلِ تنسیخ خودمختاری کی خلاف ورزی جیسے دوبارہ اشتعال انگیز اقدام پر یقینی طور پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی جنوبی کوریا شمالی کوریا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔