"براہ راست تصادم" کے امکان پر چین کیجانب سے امریکہ کو سخت انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
چینی وزیر خارجہ نے سختی کیساتھ خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تائیوان کے معاملات میں واشنگٹن کی مداخلت "چین اور امریکہ کے درمیان براہ راست تصادم" کا باعث بن سکتی ہے! اسلام ٹائمز۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے تائیوان میں مداخلت پر مبنی امریکی کوششوں پر سختی کے ساتھ خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان "براہ راست تصادم" کا باعث بن سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا کے مطابق جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کے ساتھ اپنے خطاب میں وانگ یی نے خبردار کیا کہ امریکہ مستقبل میں چین کے حوالے سے ایسی پالیسی اختیار کر سکتا ہے کہ جس کا مقصد تائیوان کے ذریعے چین کو تقسیم کرنے کے لئے اُکسانا اور چین کی سرخ لکیر کو عبور کرنا ہو۔
وانگ یی نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر چین اور امریکہ کے درمیان "براہ راست تصادم" کا باعث بن سکتا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ چین کو امید ہے کہ امریکہ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے "مثبت اور عملی" انداز اپنائے گا، البتہ ہم مختلف خطرات سے نمٹنے کے لئے بھی پوری طرح سے تیار ہیں!
واضح رہے کہ چین، تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ گردانتا ہے درحالیکہ اس جزیرے کو اپنے کنٹرول میں واپس لانے کے حوالے سے چین نے طاقت کے استعمال کی کبھی نفی نہیں کی۔ دریں اثناء، امریکہ نہ صرف تائیوان کا سب سے اہم بین الاقوامی حامی بلکہ اسے ہتھیاروں کا سب سے بڑا فراہم کنندہ بھی ہے جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی تنازعے کی صورت میں اس جزیرے کا انحصار، سب سے زیادہ "امریکی امداد" پر ہی ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: براہ راست تصادم
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔