سلیکٹڈ نہیں، منتخب قیادت ہی بلوچستان کو بحران سے نکال سکتی ہے، بی این پی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں بی این پی نے کہا کہ ڈیتھ سکواڈ، فارم 47 اتحاد، مظالم نے بلوچستان کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچایا، جہاں سے نوجوانوں کی واپسی مشکل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں گنے چنے سیاسی بونوں کی جانب سے پارٹی قائد سردار اختر مینگل پر تنقید کے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ایک کروڑ 25 لاکھ کی آبادی پر جھوٹ بیچنے والے لوگوں کو مسلط کرکے حالات کو تباہی کے دہانے پہنچا دیا گیا ہے۔ یہی سیاسی بونے ہر دور میں اپنے نظریات، قیادت، نعروں کو بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے جھوٹ بیچتے رہتے ہیں۔ تاکہ انہی کی تنخواہیں جاری رہیں۔ اکیسویں صدی میں بلوچستانی عوام خصوصاً بلوچ نوجوانوں کی آنکھوں پر پٹی باندھنا ممکن نہیں ہے۔ من گھڑت باتوں کے ذریعے مختلف شکلوں میں دہائیوں اقتدار میں گزارنے والے اب بلوچستان میں ایک کلو میٹر بغیر سکیورٹی کے سفر کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک یونین کونسل جیتنے کی ان کی حیثیت نہیں اور سوشل میڈیا پر بیٹھ کر سب کو ٹھیک کا نعرہ الاپ رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کو بحرانوں سے پیسے نہیں حقیقی عوامی قیادت کی نکال سکتی ہے۔ عوام پر جبراً مسلط کردہ فارم 47 کے حکمران جتنا خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کریں، مگر اہل بلوچستان اس بات سے آگاہ ہیں کہ ڈیتھ سکواڈ، فارم 47 اتحاد کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم نے بلوچستان کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا کر بلوچ نوجوانوں کو بہت آگے نکال دیا ہے، جہاں سے ان کی واپسی مشکل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال انتہائی مخدوش ہیں۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو حالات مزید ابتر ہوں گے۔ سلیکٹڈ نہیں عوام کی منتخب قیادت ہی بلوچستان کو بحران سے نکال سکتی ہے۔ لہٰذا مزید سیاسی بونوں کی باتوں میں آنے کی بجائے عوام اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان کو
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔