ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء میں پاک بھارت ٹاکرا کل ہو گا، مگر اس سے قبل سیاسی ماحول بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

کولمبو میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا سے سوال پوچھا گیا کہ کیا کل بھارتی کھلاڑیوں سے مصافحہ کریں گے؟ جس پر انہوں نے ’اسپرٹ آف کرکٹ‘ کا پیغام دے دیا۔

کولمبو میں ہونے والے ہائی پروفائل مقابلے سے قبل پاکستانی کپتان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاک بھارت مقابلے کو دوبارہ خالصتاً کھیل کی بنیاد پر دیکھا جائے، نہ کہ کسی سیاسی تناؤ کے تناظر میں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مثالی نہیں رہے، تاہم اس وقت گفتگو کا محور کھیل ہوا کرتا تھا، دوطرفہ سیریز نہ ہونے کے باعث اب آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ہونے والے یہ مقابلے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

پاکستانی کپتان نے کہا کہ میں توقع کرتا ہوں کہ کھیل کو اسی جذبے کے ساتھ کھیلا جائے جس کے ساتھ یہ ابتداء سے کھیلا جاتا رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران بھارتی میڈیا کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ اگر بھارتی کھلاڑی مصافحے کے لیے آگے بڑھیں تو کیا آپ ہاتھ ملائیں گے؟ اس سوال پر سلمان آغا نے براہِ راست ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بجائے مختصر ردِعمل دیا کہ یہ کل پتہ چل جائے گا۔

بھارتی ٹیم کے عالمی ایونٹس میں مضبوط ریکارڈ سے متعلق سوال پر سلمان آغا نے ماضی کو غیر متعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے ریکارڈ کی کوئی اہمیت نہیں، یہ نیا دن ہو گا، تاریخ کو بدلا نہیں جا سکتا لیکن ہم اس بار بہتر کارکردگی دکھا کر جیتنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا