امریکا میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارتی شہری نے اعتراف کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ایک بھارتی شہری نکھل گپتا نے نیویارک میں مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کے لیے اجرتی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔
امریکی پراسیکیوٹر جے کلیٹن نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں جاری بیان میں کہاکہ نکھل گپتا نے سازش کے 3 الزامات تسلیم کر لیے ہیں اور یہ کہ امریکہ بیرون ملک مقیم کسی بھی شخص کو امریکی شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
مزید پڑھیں: کینیڈا کے وزیراعظم کارنی نے ملکی خودمختاری قربان کردی، گرپتونت سنگھ پنوں
نیویارک کے ایف بی آئی کے سربراہ جیمز سی بارنیکل جونیئر نے بتایا کہ نکھل گپتا نے بھارتی حکومت کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا تھا، جس نے انہیں پنوں کو قتل کرنے کی ہدایت دی۔
بارنیکل نے کہاکہ یہ ایک غیر قانونی کوشش تھی جس میں ایک غیر ملکی دشمن نے سہولت فراہم کی۔
54 سالہ نکھل گپتا نے عدالت کو بتایا کہ وہ 2023 میں بھارت میں تھے اور انہوں نے آن لائن 15 ہزار ڈالر ادا کیے تاکہ مبینہ طور پر گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کیا جا سکے، تاہم وہ انجانے میں ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی کے خفیہ افسر سے رابطے میں تھے، جس نے خود کو اجرتی قاتل ظاہر کیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کے کمرے میں تقریباً 2 درجن سکھ موجود تھے، جو بھارت کے شمال مغربی پنجاب میں آزادی کے خواہشمند ہیں اور مستقبل میں اسے جمہوریہ خالصتان کا نام دینے کی امید رکھتے ہیں۔
سماعت کے بعد لوگوں نے عدالت کے باہر زرد جھنڈے اور امریکی پرچم لہرا کر دعائیہ تقریب بھی منعقد کی۔
گرپتونت سنگھ پنوں، جو سکھ ریاست کے قیام کے حامی ہیں، نے بعد میں ٹیلی فون پر کہاکہ وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، چاہے انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے اپنے آپ کو ایک انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں تمام مذاہب کے لیے مساوی حقوق کو یقینی بنانے کی مہم جاری رکھیں گے اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں ملوث حکام کے خلاف کارروائی کرے۔
نکھل گپتا کو جون 2023 میں جمہوریہ چیک میں پراگ سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا تھا۔ اقرار جرم کے مطابق انہیں کم از کم 2 دہائیوں قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ سزا سنانے کی تاریخ 29 مئی مقرر کی گئی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا نے افسر کو بتایا کہ برٹش کولمبیا، کینیڈا میں سکھ مندر کے باہر 2023 میں ہونے والا قتل بھی انہی افراد کا کام تھا، جو پنوں کے قتل کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ نجر ہلاک ہو چکے ہیں، اس لیے اگلا ہدف گرپتونت سنگھ پنوں ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
گرپتونت سنگھ پنوں نے نکھل گپتا کو محض ایک مہرہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ انڈین حکومت اس سازش کے پیچھے ہے، اور وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ خالصتان کی آزادی حاصل ہو یا اپنی جان قربان کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اعتراف امریکا سکھ رہنما قتل کی سازش گرپتونت سنگھ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعتراف امریکا سکھ رہنما قتل کی سازش گرپتونت سنگھ وی نیوز گرپتونت سنگھ پنوں نکھل گپتا نے قتل کی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔