سعودی وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگبندی اور تعمیر نو کی بحالی کی حمایت کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل ہی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کیلئے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ رواں شب سعودی وزیر خارجہ "فیصل بن فرحان" نے کہا کہ "غزہ" کے خلاف جنگ، بند ہونی چاہئے۔ فلسطینیوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کی ضرورت پر زور دیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں غزہ میں جنگ بندی اور اس علاقے میں تعمیر نو کی بحالی کی حمایت کرنی چاہئے۔ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ دو ریاستی حل ہی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لئے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 2 سالوں میں امریکی حمایت یافتہ صیہونی رژیم نے غزہ کی پٹی پر وہ جارحیت مسلط کی جس کے نتیجے میں وہاں تقریباََ 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔ اقوام متحدہ نے ان نقصانات کی تعمیر نو کا اندازہ تقریباََ 70 ارب ڈالر لگایا ہے۔ قبل ازیں اقتصادی امور کے ماہر "احمد ابو قمر" نے غزہ کی اقتصادی صورتحال کو 2025ء میں بحرانی قرار دیا اور کہا کہ یہ سال غزہ کی پٹی میں مکمل معاشی تباہی کا سال ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔