میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پرکہ میرے بچے گٹر میں گر کر مرجائیں، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نےکہا ہےکہ اس حکومت اور 18 ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں، میں لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پرکہ میرے بچے گٹر میں گر کر مرجائیں۔کراچی میں عوامی اجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مقامی حکومت سے متعلق ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو رد کیا، 18ویں آئینی ترمیم نے سب خراب کردیا، دنیا کے بدترین شہروں میں کراچی چوتھے نمبر پر آتا ہے، وفاق سے کہتا ہوں آپ فی الفور ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو منظور کروائیں۔
ہم اس حکومت اور 18ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں، لعنت بھیجتا ہوں ایسی وزارت پر کہ میرے بچے گٹر میں گر کر مرجائیں :مصطفیٰ کمال کا جلسے سے خطاب
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ خاموش ایم کیو ایم کو کمزور ایم کیو ایم نہ سمجھیں، ہم نے یہ طے کیا ہےکہ اس زندگی سے موت اچھی، ہمیں جدوجہد کرنی ہے، اب ہم پر نسل پرستی کا الزام لگا کرتم ہمیں نہیں لڑواسکتے، ہم نے 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے کی حمایت کی ہے، اگر آپ میری 26 ویں اور 27 ویں ترمیم میں آئینی ترمیم کی مخالفت کریں گے تو میں 18 ویں ترمیم کی مخالفت کروں گا۔ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی والے ہمارے وجود تک کو تسلیم کرنےکے لیے تیار نہیں،گنتی ٹھیک کی جائے توکراچی کی آبادی ساڑے 3 کروڑ اور حیدرآباد کی 40 لاکھ ہے، گنتی ٹھیک ہو تو سیٹیں بڑھیں گی اور جو کراچی حیدرآباد میں جیتےگا حکومت بنائےگا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پرانی ایم کیو ایم نہیں ہے، یہ کراچی کے ہر علاقے کی ایم کیو ایم ہے، آج اسٹیج پر سندھی بولنے والے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رہنما موجود ہیں، تم جتنے ڈسٹرکٹ بنا کر تقسیم کی سیاست کرلو ہر جگہ ایم کیو ایم ہوگی، سندھ میں 18 سال سے تمہاری حکمرانی ہے، تم ہمیں گنتے صحیح نہیں ہو،کوٹے پر بھی ہمیں نوکری نہیں دیتے اس پر بھی جعلی ڈومیسائل بنالیتے ہو۔
ہمارا پریشر اتنا تگڑا نہیں کہ ہم کچھ حاصل کرسکیں، علی امین گنڈا پور
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم ویں ترمیم ترمیم کو ایم کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔