جماعت اسلامی کراچی کا کل شہر کے دس مقامات پر دھرنوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے صوبائی اسمبلی کے باہر جاری احتجاج کے دوران اعلان کیا ہے کہ آج ایک دھرنا روکے جانے کے بعد کل کراچی کے دس مختلف مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت پر فاشزم اور شہر دشمنی کا الزام عائد کیا۔
https://x.com/SirajOfficial/status/2022693470348152976
منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت بزنس روڈ پر موجود ہیں اور جماعت اسلامی نے صوبائی اسمبلی کے باہر کراچی کے حق اور میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام کے لیے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے فاشزم کا مظاہرہ کیا اور نمازِ مغرب کے بعد سے شیلنگ کی جارہی ہے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی کے کارکنان کے سروں پر شیل پھینکے گئے اور شہر کے لوگوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج
انہوں نے کہا کہ ہم بااختیار بلدیاتی حکومت اور شہریوں کے جینے کے حق کا مطالبہ کر رہے تھے، مگر ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والے ہمیں ہی شیلنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سانحہ گل پلازہ میں 80 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور اربوں روپے کا کاروبار تباہ ہوگیا۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ شہریوں پر شیلنگ کر کے کراچی دشمنی کا مظاہرہ کیا جائے۔
جماعت اسلامی کے رُکن اسمبلی محمد فاروق کارکنان سمیت گرفتار۔ یہ پیپلز پارٹی کی بد ترین فسطائیت ہے۔
کراچی کے لوگوں نے پیپلز پارٹی کو مسترد کردیا ہے۔
جدو جہد مزید تیز ہوگی۔
Karachi Rejects PPP #EndPPPWaderaRaj pic.
— Jamaat-Islami AJK&GB Women Wing (@JIWomenAjkGb) February 14, 2026
منعم ظفر خان نے دعویٰ کیا کہ 2022 کے ایکسپائر شدہ شیل شہریوں پر برسائے گئے۔ انہوں نے اہلِ کراچی سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے “حق دو کراچی، جینے دو کراچی” تحریک کا حصہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی پُرامن سیاسی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ بزنس روڈ پر دکانیں کھلی ہیں اور احتجاج بھی جاری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن نے پورے شہر کو نوگو ایریا بنا دیا ہے اور جماعت اسلامی ایسے اقدامات کا پیچھا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ظالموں نے دھرنا روکنے کی کوشش کی، مگر جماعت اسلامی مزاحمت اور جدوجہد جاری رکھے گی۔ آج ایک دھرنے کو روکا گیا ہے، کل کراچی کے دس مقامات پر دھرنے دیے جائیں گے جن میں شاہراہِ فیصل، نیشنل ہائی وے، شاہراہِ کورنگی اور شارعِ کورنگی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کے حق اور میگا سٹی گورنمنٹ کے قیام کے لیے جدوجہد کسی صورت نہیں رکے گی اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے تحریک جاری رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔