کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پولیس سے مذاکرات ناکام ہونے پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا جب ابتدائی مذاکرات ناکام ہو گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم سندھ اسمبلی کے باہر بوریا بستر لے کر آرہے ہیں، جماعت اسلامی کا دھرنا تاریخی ہوگا، ایم پی اے محمد فاروق
پولیس انتظامیہ نے پہلے ہی راستے میں موبائل اور بسیں کھڑی کر کے کارکنان کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکنے کا فیصلہ کیا تھا، اہلکاروں نے کورٹ روڈ اور نماز روڈ پر رکاوٹیں قائم کیں تاکہ مارچ کو آگے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
سندھ اسمبلی جاکر دھرنے دینے والے جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے روکنے کی کوشش کی کارکنوں نے جوابی پتھراؤ کیا پولیس مظاہرین کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئی سندھ اسمبلی روڈ میدان جنگ بن گیا ہے pic.
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) February 14, 2026
ابتدائی مذاکرات میں جماعت اسلامی کے وفد اور پولیس انتظامیہ کے درمیان کوئی اتفاق نہ ہوسکا، جماعت اسلامی کے نائب امیر و رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ڈپٹی سیکریٹری کراچی عبد الرزاق خان راستے پر بیٹھ گئے اور پولیس سے راستہ کھولنے کی درخواست کی۔
جماعت اسلامی کے رہنما محمد فاروق نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جماعت ہے اور سندھ اسمبلی کے باہر پرامن دھرنا دیا جائے گا، انہوں نے وعدہ کیا کہ دھرنے کے دوران کسی بھی قسم کا نقصان یا پتھر بازی نہیں کی جائے گی اور کارکنان کو پرامن رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن نذرِ آتش کیے جانے کیخلاف کراچی میں جماعت اسلامی منارٹی ونگ کا احتجاج
پولیس اور جماعت اسلامی کے درمیان یہ کشیدگی شہر کے اہم سیاسی اور حکومتی مرکز کے سامنے برقرار ہے، اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔
پولیس سے مذاکرات کی ناکامی پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا ہے، جس پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی لاٹھی چارج
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔