اترپردیش، بی جے پی حکومت نے ایک اور مدرسہ منہدم کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے نرولی میں 285 مربع میٹر اراضی پر تعمیر مدرسے کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور پورا علاقہ ایک پولیس کیمپ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع سنبھل میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں قائم بی جے پی حکومت نے اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک اور مدرسے کو مسمار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے نرولی میں 285 مربع میٹر اراضی پر تعمیر مدرسے کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور پورا علاقہ ایک پولیس کیمپ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ دریںاثنا نرولی پنچایت کے چیئرمین نے انہدامی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع یا نوٹس نہیں ملا۔ انہوں نے اس جگہ کو مذہبی مقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مدرسہ تقریبا 3سو گز پر محیط ہے اور یہ اسلامی تعلیم کا مقام ہے۔ مدرسے کی مسماری سے علاقے کی مسلم برادری میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے اور پورے علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔